افغانستان: انٹرنیٹ کی بندش کے لیے جاری کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں مزید صوبے آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کی حکومت نے افغانستان میں انٹرنیٹ کے منفی اثرات اور غیر اخلاقی مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروسز کے خلاف جاری اپنے کریک ڈاؤن کو کئی صوبوں تک پھیلا دیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے رہنما نے ایک حالیہ سروے کے بعد انٹرنیٹ کے منفی اثرات کے بارے میں آنے والے حقائق اور عام لوگوں کے احساسات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ کے بے جا استعمال کو روک دیا جائے۔

'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق افغانستان کے صوبہ جلال آباد میں بھی یہ کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی طرح کئی دوسرے صوبے بھی اس کریک ڈاؤن کی زد میں آگئے ہیں۔

یاد رہے 2021 اگست سے افغانستان پر دوبارہ سے طالبان کی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ تاہم انٹرنیٹ کے خلاف پہلی بار یہ کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے۔

سرکاری و نجی شعبے کے اداروں اور گھروں میں بھی انٹرنیٹ کی یہ سہولت بذریعہ 'وائے فائی' روکی جا رہی ہے۔ تاہم موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت بروئے کار رہے گی۔

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کی ضرورتوں سے آگاہ ہیں۔ اس لیے اس کی متبادل آپشنز پر کام جاری ہے۔

جمعرات ہی کے روز صوبہ بلخ میں انٹرنیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کی تصدیق کی گئی تھی۔ اسی طرح باقی حصوں سے بھی یہی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشرق اور شمال میں یہ سہولت اب بند کی گئی ہے جس میں صوبہ بغلان، بدخشان، قندوز، ننگرہار اور صوبہ تہار شامل ہیں۔

تہار میں صوبے کے ترجمان صدیق اللہ قریشی نے کہا ہے ننگرہار ایک ثقافتی مرکز ہے۔ تاہم اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ یہ اطلاع قندوز میں قائم سرکاری دفاتر کے ایک واٹس ایپ گروپ نے شیئر کی ہے۔

افغانستان میں میڈیا کی حامی تنظیموں اور انٹرنیٹ سے متعلق کاروباری کمپنیوں نے انٹرنیٹ پر لگائی گئی ان قدغنوں کی مذمت کی ہے اور گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے لاکھوں لوگ اطلاعات کی رسائی سے محروم ہو گئے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں