عمر البشیر [العربیہ ڈاٹ نیٹ خصوصی فوٹو]

سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر معزولی کی زندگی کسے گذار رہے ہیں؟

العربیہ/الحدث ذرائع : عمر البشیر کے رہائشی کمپاؤنڈ میں ان کے نمایاں ساتھی بکری حسن صالح، یوسف عبدالفتاح اور محمد الخنجر کے ساتھ مقیم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق سوڈانی صدر عمر البشیر کے بارے میں کئی برس تک یہ واضح نہ تھا کہ وہ کہاں ہیں؟ اور کیسے زندگی گزار رہے ہیں؟تاہم اب العربیہ/الحدث کو دستیاب خاص معلومات سے پتا چلا ہے کہ معزولی کے بعد وہ کہاں رہتے ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی کیسی ہے؟

وہ شخص جس نے کئی دہائیوں تک سوڈان پر حکومت کی، اب بہت سے لوگ سمجھتے تھے، کہ وہ'' کوبر جیل ''میں نہیں ہے بلکہ گذشتہ کئی برسوں سے مروی ملٹری بیس کے میڈیکل کمپلیکس کے اندر ایک رہائشی جگہ پر مقیم ہے۔ اس کے ساتھ اس کے دورِ حکومت کے کئی نمایاں رہنما بھی موجود ہیں، اور ان سب پر سخت نگرانی رکھی گئی ہے۔ ان کی رہائش کے حالات عام سوڈانی عوام کی سوچ سے بالکل مختلف ہیں۔

معزول صدر کو عدالت میں پیشی کے بعد جیل لے جایا رہا ہے [اے ایف پی]

العربیہ/الحدث نے پہلی مرتبہ وہ خفیہ معلومات حاصل کر لی ہیں جو عمر البشیر کی معزولی کے بعد ان کے رہن سہن اور قیام کی صورتحال سے پردہ اٹھاتی ہ

کئی برس تک یہ بحث جاری رہی کہ آیا عمر البشیر'' کوبر جیل ''میں ہیں یا کسی ہسپتال میں ہیں ۔مگر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس وقت مروی میڈیکل بیس کے اندر ایک رہائشی کمپاؤنڈ میں مقیم ہیں، جو جیل کی عام زندگی سے بالکل مختلف ہے۔

اسی جگہ ان کے ہمراہ فوجی قیادت کی کئی نمایاں شخصیات بھی قید ہیں، جن میں بکری حسن صالح، یوسف عبدالفتاح اور محمد الخنجر کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

موبائل فون اور انٹرنیٹ

تفصیلات کے مطابق عمر البشیر کی زندگی رہائش گاہ میں ایک باقاعدہ روزمرہ معمول کے مطابق چلتی ہے۔ وہ فجر کے وقت بیدار ہوتے ہیں اور تقریباً آدھے گھنٹے تک چہل قدمی کرتے ہیں، اس کے بعد کتب بینی اور خبروں کا مطالعہ کرتے ہوئے وقت گزارتے ہیں۔

شام ڈھلتے ہی وہ اپنے رفقا کے ہمراہ محفل جماتے ہیں، جو اس تنہائی بھری زندگی میں ان کے لیے واحد سکون کا ذریعہ ہے۔ عمر البشیر سوڈان میں ہونے والے حالات کا جائزہ اپنے موبائل فون سے لیتے ہیں، جو انٹرنیٹ کے لیے "اسٹار لنک" سسٹم سے منسلک ہے۔

عمر البشير [اے ایف پی فائل فوٹو]

زندگی گذارنے سے متعلق سہولتوں کے لحاظ سے عمر البشیر کی رہائش گاہ ایک مکمل انتظامی عمارت ہے، جہاں بلا تعطل بجلی فراہمی کو یقینی بنانے والا جنریٹر اور سیٹلائیٹ انٹرنیٹ سروس چوبیس گھنٹے موجود ہوتی ہے، جبکہ کھانے پینے کی تیاری اور خدمت پر فوجی افسران پر مشتمل عملہ مامور ہے۔ تاہم بیرونی کھانے کی اشیاء لانے پر پابندی ہے، صرف پھل ہی قدرے محدود تعداد میں اندر پہنچائے جا سکتے ہیں۔

ہفتے میں تین مرتبہ ہسپتال میں معائنہ

صحت کے حوالے سے، عمر البشیر اور ان کے ساتھی ماضی میں ہفتے میں تین مرتبہ ہسپتال جایا کرتے تھے، تاہم اب ایک خصوصی طبی ٹیم باقاعدگی سے ان کی رہائش گاہ پر آتی ہے اور انہیں مطلوبہ طبی نگہداشت فراہم کرتی ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یوں، وہ سابق سوڈانی صدر جو کبھی اقتدار کے ایوانوں میں فیصلہ ساز تھا، آج سیاست اور عوامی نگاہوں سے دور، ایک رہائشی کمپاؤنڈ میں سخت سکیورٹی کے حصار میں تقریباً مکمل تنہائی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2018 کی عوامی تحریک نے عمر البشیر اور حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے اقتدار کا خاتمہ کیا۔ بعد ازاں، نومبر 2019 میں ایک غیر معمولی قدم کے طور پر "انقاذ نظام کے خاتمے کا قانون" منظور کیا گیا۔ جس کے تحت نیشنل کانفرنس پارٹی کو تحلیل کرکے سیاسی جماعتوں کے رجسٹر سے خارج کر دیا گیا۔ ساتھ ہی اس سے منسلک تمام تنظیمیں اور ادارے بھی ختم کر دیے گئے، جبکہ اس کی جائیداد اور اثاثے ریاست کے حق میں ضبط کر لیے گئے، یوں ایک طویل دورِ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں