پیرس میں گیر ڈو نورڈ ریلوے اسٹیشن کے سامنے احتجاج کے دوران ایک فلسطینی پرچم لہرا رہا ہے جس میں حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں اور مظاہروں اور اگلے بجٹ میں کٹوتیوں کے ایک حصے کے طور پر بلوکونس ٹاؤٹ (آئیے ہر چیز کو بلاک کریں) تحریک کے حامیوں کے ساتھ، فرانس، 18 ستمبر، 2025۔ REUTERS/Benoit Tess
برطانیہ اور پرتگال جنرل اسمبلی میں بحث سے پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے
اتوار کے روز برطانیہ اور پرتگال کے بارے میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جنرل اسمبلی میں بحث شروع ہونے سے پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیں گے۔
ان کا یہ اعلان اقوام متحدہ کے انتہائی اہم ہفتہ کی سرگرمی کے لیے دنیا بھر سے نمائندوں کی آمد سے پہلے متوقع ہے۔ جبکہ دوسری بہت ساری اقوام بھی غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کے لیے اسی اقدام کی تیاری کر رہی ہیں۔
اسرائیل کے بہت دیرینہ اتحادی ملکوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل و فلسطینی ریاست کے بارے میں اپنے مؤقف میں تبدیلی لا رہی ہے۔ یہ تبدیلی حالیہ مہینوں کے دوران اس وقت سامنے آنا شروع ہوئی جب اسرائیلی ریاست نے غزہ جنگ میں انتہائی زیادہ شدت پیدا کر کے فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور تباہی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور جبری طور پر فلسطینیوں کو لاکھوں کی تعداد میں بے دخل کرنے کی کوشش ایک منظم منصوبہ کا حصہ بن چکی ہے۔
خیال رہے اب تک 65208 سے زائد فلسطینیوں کو غزہ میں اسرائیلی ریاست کی فوج نے قتل کیا ہے اور اس نسل کشی کو روکنے کا کوئی اشارہ نہیں۔ جبکہ بھوک کے علاوہ پیاس سے بھی فلسطینیوں کی اموات واقع ہونے لگی ہیں۔
اس صورتحال نے اپنے اتحادیوں کے ہاں بھی اسرائیلی ریاست کا چہرہ انتہائی مکروہ انداز میں پیش کر دیا ہے کہ اسے نہ انسانی اخلاقی اقدار کی پرواہ ہے نہ بین الاقوامی قانون کی اور نہ اتحادیوں کے مطالبے کی۔
اہم خلیجی ملک اور غزہ جنگ کے حوالے سے ثالثی کا سب سے نمایاں کردار ادا کرنے والے ملک قطر پر اسرائیلی حملوں نے اس معاملے کو سنگین تر بنا دیا ہے۔
اس تناظر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس اسی ہفتے انتہائی اہم مباحث کے ساتھ سامنے آرہا ہے جن میں ایک غیر معمولی طور پر اہمیت کا حامل موضوع فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ہے۔ تاکہ خطے کے دیرینہ تنازع اور فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیے جانے کے سلسلے میں پیش رفت ہو سکے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ 10 ممالک جنرل اسمبلی کے اجلاس کےد وران فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔ ان میں برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال وغیرہ شامل ہیں۔ 'بی بی سی' کی طرح دوسرے برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز کیر سٹارمر امکانی طور پر اپنی پالیسیوں میں اس بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیں گے۔
یاد رہے برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے ماہ جولائی میں کہا تھا کہ امکانی طور پر برطانیہ اب فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے۔ تاہم کیر سٹارمر نے اس وقت یہ بھی شرط عائد کی تھی کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات نہ کیے تو فلسطینی ریاست کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تسلیم کر لیا جائے گا۔
لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے اس برطانوی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ اس اقدام سے 'پیس پراسس' کو فائدہ ہوگا اور دو ریاستی حل سے خطے میں بہتری آئے گی۔ جوابا اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نے اپنا گھڑا گھڑایا ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یہ فیصلہ دہشت گردوں کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔
اسرائیلی مخالفت
پرتگال کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز کہا کہ پرتگال اتوار کے روز باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔
آسٹریلیا نے بھی اس سے پہلے جولائی میں ہی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ بھی مشرق وسطیٰ میں اس بڑھتے ہوئے تصادم سے پریشان ہے اور وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔ تب سے اسرائیل نے غزہ پر بمباری کو اور تیز کر دیا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھوک اور قحط کا غزہ میں عملاً راج ہو چکا ہے اور لوگ قحط کا شکار ہیں لیکن اسرائیلی فوج غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے ایسی بمباری کر رہی ہے جس کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی۔
فرانس اور کینیڈا بھی ان مغربی ملکوں میں شامل ہیں جن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اسی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اسرائیل نے ان ممالک کے اعلانات کے ردعمل میں دھمکی دی ہے کہ وہ مغربی کنارے کا اپنے ساتھ جبری الحاق کر لے گا۔
ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ دنیا کو اسرائیل سے خوفزدہ ہونے کی قطعا ضرورت نہیں ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر اسرائیل کی طرف سے ردعمل کیسا ہوگا۔