پولیس اہلکار

لیبیا میں پولیس اہلکاروں پر داڑھی رکھنے کی پابندی ختم

فیصلے پر شدید اعتراضات کے بعد وزارت داخلہ نے حکم واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی پارلیمنٹ کے زیر انتظام حکومت کی وزارت داخلہ نے پولیس اہلکاروں پر داڑھی رکھنے کی پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا۔ یہ اقدام فوجی قیادت کی مداخلت اور عوامی سطح پر پیدا ہونے والے سخت ردعمل کے بعد کیا گیا۔

ہفتے کی شام وزارت داخلہ کے نائب وزیر فرج قعیم نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ پولیس اہلکاروں کے لیے داڑھی رکھنے پر عائد پابندی کا فیصلہ منسوخ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قدم جنرل کمان کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے۔

اس سے قبل فرج قعیم نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت پولیس اہلکاروں کو داڑھی رکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو نافذ کرتے وقت کہا گیا کہ یہ پولیس کے ظاہری ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔ تاہم یہ پابندی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آگئی جہاں اسے انفرادی آزادی میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر بلاوجہ دباؤ ڈالنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اس کے باوجود کچھ حلقوں نے اس فیصلے کی حمایت کی اور اسے ادارے کے نظم و ضبط اور وقار کے لیے ضروری بتایا۔

واضح رہے کہ سنہ2011ء سے لیبیا میں فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے فیصلوں کے تحت، اس وقت کے مفتی عام صادق الغریانی کی سفارش پر داڑھی رکھنے کی اجازت ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں