ایرانی اور روسی پرچم۔ (سٹاک فوٹو)

روس اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط: ایران میں چھوٹے جوہری بجلی گھر تعمیر ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور ایران نے بدھ کے روز ایران میں چھوٹے جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر کے سلسلے میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، روسی ریاستی جوہری کارپوریشن روس آتوم نے کہا۔

روس آتوم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف اور ایران کے اعلیٰ جوہری اہلکار محمد اسلامی نے ماسکو میں ہونے والے ایک اجلاس میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔ روس آتوم نے اسے ایک "تزویری اہمیت کا حامل" منصوبہ قرار دیا۔

اسلامی جو ایران کے نائب صدر بھی ہیں، نے اس ہفتے کے شروع میں ایران کے سرکاری میڈیا کو بتایا، یہ منصوبہ آٹھ جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر کا ہے کیونکہ تہران 2040 تک 20 گیگا واٹ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایران جو زیادہ طلب والے مہینوں میں بجلی کی قلت کا شکار ہو جاتا ہے، کا صرف جنوبی شہر بوشہر میں ایک جوہری پاور پلانٹ فعال ہے۔ یہ روس نے بنایا تھا اور اس کی گنجائش تقریباً ایک گیگاواٹ ہے۔

روس کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں اور اس نے اس سال کے شروع میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی تھی۔

ایران نے بارہا کہا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں