فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کرتے ہوئے
سعودی عرب نے دو ریاستی حل کے لیے "نیویارک اعلامیے" پر دستخط پر بہت سے ممالک کو قائل کیا
فرانسیسی صدر کے مطابق "نیویارک اعلامیے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان باہمی تسلیم کو شامل کیا گیا ہے".
فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب نے دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے "نیویارک اعلامیے" پر دستخط کرنے پر بہت سے ممالک کو قائل کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ "اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 142 ارکان غزہ میں فائر بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں"۔
ماکروں نے وضاحت کی کہ "اسرائیل کے لیے استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنے پڑوسیوں کی خود مختاری کی خلاف ورزی جاری رکھے گا۔"
انھوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی تعلقات پر "طاقت ور کی بقا" کا رویہ غالب آ سکتا ہے۔
ماکروں نے کہا "یہ ہمارے دور کا سب سے بڑا خطرہ ہے... یہ خطرہ کہ صرف طاقت ور ہی باقی رہیں۔ یہ خطرہ کہ چند افراد کی خود غرضی حاوی ہو جائے۔"
انھوں نے مزید کہا "ہم دنیا میں بعض عناصر کی جانب سے مسلط کیےجانے والے جنگل کے قانون کو قبول نہیں کریں گے۔"
فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ "بین الاقوامی انصاف کے اداروں کے فیصلوں کا احترام ضروری ہے اور دہرا معیار نہیں اپنایا جانا چاہیے۔"
انھوں نے کہا کہ "موجودہ بین الاقوامی اداروں کے ضوابط کے اختیارات کو مضبوط کیا جانا چاہیے"، اور اس بات کی نشان دہی کی کہ "دنیا کے کئی تنازعات میں فریقین جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔"
ماکروں نے سلامتی کونسل کی توسیع اور اصلاح کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالخصوص بر اعظم افریقا کے حق میں ہونا چاہیے۔
یوکرین کی جنگ کے حوالے سے ماکروں نے کہا "یوکرین امن چاہتا ہے، جنگ نہیں۔"
انھوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ روس یوکرین میں فائر بندی کرے۔"
غزہ کی جنگ کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ماکروں نے لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفیل) کے مشن میں توسیع کے فیصلے کو سراہا۔
اپنی تقریر کے اختتام پر ماکروں نے کہا کہ وہ بدھ کو ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے تاکہ تہران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کے مسئلے پر بات کی جا سکے۔ انھوں نے مزید کہا "یا تو ایران مثبت قدم اٹھائے اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اپنا کام کرنے دے، ورنہ پابندیاں دوبارہ عائد کر دی جائیں گی۔"