گزشتہ ہفتے غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد پر اسرائیلی ٹینک

اسرائیل غزہ پر مستقل قبضے اور مغربی کنارے میں یہودی اکثریت مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ پر مستقل قبضے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادی کی اکثریت کو یقینی بنانے کا واضح ارادہ ظاہر کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے غزہ کی شہری تنصیبات اور علاقے کی بنیادی ڈھانچے کو منظم انداز میں تباہ کیا اور سکیورٹی پٹی کو وسیع کیا، جس کے نتیجے میں جولائی 2025 تک اسرائیل نے غزہ کے 75 فیصد حصے پر قبضہ جما لیا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے جغرافیائی نقشے کو تبدیل کرنے کے لیے فوجی راہداریوں کی تعمیر، سرحدی زون کو بڑھانے اور نئے "سکیورٹی زونز" قائم کرنے جیسے اقدامات کیے، جس سے غزہ کے حصے ٹکڑوں میں بٹ گئے۔

جنیوا میں اسرائیلی مشن نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "حماس اسرائیل کے خلاف نسل کشی کی نیت رکھتی ہے، یہ رپورٹ ہر پہلو سے غلط ہے اور اس کمیٹی کے سیاسی ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے"۔

تاہم اقوام متحدہ کی آزاد تحقیقاتی کمیٹی نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں "نسل کشی" کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس نسل کشی پر اکسانے کا کردار ادا کیا۔

رپورٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی حکومت کا مقصد غزہ پر مستقل قبضہ برقرار رکھنا اور مغربی کنارے سمیت اسرائیل کے اندر بھی یہودی اکثریت قائم رکھنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ "تل ابیب نے غزہ میں چار بار اجتماعی نسل کشی کے اعمال کیے، جن کا مقصد واضح طور پر فلسطینیوں کا خاتمہ تھا۔"

مزید کہا گیا کہ اسرائیلی رہنماؤں کے یہ اقدامات ریاست اسرائیل سے منسلک ہیں، لہٰذا اسرائیل نسل کشی کرنے، اسے روکنے میں ناکامی اور اس کی سزا نہ دینے کی ذمہ دار ہے۔

کمیٹی نے یہ بھی بتایا کہ اسحاق ہرزوگ، بنجمن نیتن یاھو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ نے نسل کشی پر اکسایا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام غزہ کی سول تنصیبات کو منظم اور وسیع پیمانے پر تباہ کر رہے ہیں اور جولائی 2025 تک غزہ کے تین چوتھائی حصے پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ "اسرائیل نے شہری انفراسٹرکچر تباہ کر کے اور فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کر کے انہیں زندگی کے لیے درکار وسائل سے محروم کر دیا ہے، تاکہ ان کے لیے جان بوجھ کر مشکل حالات پیدا کیے جائیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کو مکمل یا جزوی طور پر ختم کرنا ہے"۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیل مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں پرتشدد یہودی آبادکاروں کی سرگرمیوں کی پشت پناہی، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، یہودی آبادکاری میں توسیع اور پورے مغربی کنارے کو ضم کرنے جیسے اقدامات کر رہا ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ یہ اقدامات اس بات کا "واضح اشارہ" ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور ریاست سازی کے عمل کو روک کر اپنے قبضے کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں