ایلون مسک
ماسک نے ایپسٹین جزیرے کی دعوت مسترد کر دی تھی؟ ایک پر اسرار کہانی
ٹیکنالوجی کے سرخیل کو دسمبر 2014 میں ’ایپسٹین جزیرے کا دورہ کرنے کی دعوت ملی تھی
ٹکنالوجی کی دنیا کے سرخیل اور ارب پتی امریکی ایلون ماسک نے ہفتے کے روز دعوی کیا ہے کہ بدنام زمامہ جنسی سکینڈل میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین نے انہیں اپنے نجی جزیرے کیریبین کی سیر کی دعوت دی تھی، تاہم انہوں نے یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ دعوی اس وقت سامنے آیا جب دستاویزات کے حوالے سے یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بے تاج بادشاہ ایلون ماسک کو دسمبر 2014 میں ’ایپسٹین جزیرے‘ کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
ماسک نے پلیٹ فارم ’ایکس‘ (X) پر ایپسٹین کیس کی تازہ ترین دستاویزات میں اپنا نام شامل ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’ایپسٹین نے مجھے اپنی جزیرے پر بلانے کی کوشش کی لیکن میں نے انکار کر دیا،‘ اور اس جانب اشارہ بھی کیا کہ شہزادہ اینڈریو واقعی اس جزیرے کا دورہ کر چکے ہیں۔
جمعہ کے روز امریکہ میں امریکہ میں ڈیموکریٹس نے ایپسٹین کیس سے متعلق مزید دستاویزات جاری کیں۔ ان میں ایک کیلنڈر کا اندراج بھی شامل تھا ،جس پر چھ دسمبر 2014 کی تاریخ درج تھی۔ اس نوٹ میں لکھا تھا:
’یاد دہانی: ایلون ماسک جزیرے پر چھ دسمبر کو (کیا یہ منصوبہ اب بھی برقرار ہے؟)‘۔ تاہم، اس کیلنڈر سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ ماسک نے واقعی اس جزیرے کا دورہ کیا تھا یا نہیں۔
ایک الگ دستاویز میں مئی 2000 کے ایک فضائی سفر کا ریکارڈ موجود ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ نیو جرسی سے فلوریڈا جانے والی پرواز کے مسافروں میں شہزادہ اینڈریو بھی شامل تھے۔
یہ دستاویزات ایپسٹین کی جائیداد کی جانب سے جاری کیے گئے ریکارڈز کے تیسرے حصے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ان میں ٹیلی فون پیغامات کے ریکارڈ، فضائی پروازوں اور مسافروں کی فہرستوں کی نقول، مالی حسابات کی کتابوں کی کاپیاں، اور ایپسٹین کا یومیہ شیڈول شامل ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایپسٹین کا کیس 2005 میں اس وقت شروع ہوا، جب اسے ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ جسم فروشی کے الزام میں سزا دی گئی۔ تاہم، یہ معاملہ اس وقت زیادہ شدت اختیار کر گیا، جب اسے دوبارہ گرفتار کر کے کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمہ چلایا گیا۔
اس دوران کئی مشہور شخصیات کے نام بھی سامنے آئے جو یا تو اس سے تعلق رکھتے تھے یا اُس جزیرے پر جاتے تھے، جسے اب ’ایپسٹین جزیرہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ بحیرہ کیریبین میں، سینٹ تھامس کے ساحل کے قریب واقع ہے۔
جیفری ایپسٹین نے 2019 میں اپنی قید کی کوٹھڑی میں خودکشی کر لی تھی، جب وہ جنسی سمگلنگ کے الزامات پر مقدمے کا سامنا کر رہا تھا، ان الزامات میں درجنوں نو عمر لڑکیاں شامل تھیں، جن میں سے بعض کی عمر صرف 14 سال تھی۔