امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ پیدائشی شہریت کے حق سے متعلق اس کے حکم کی تائید کرے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ بچے جن کے والدین غیر قانونی طور پر یا عارضی طور پر امریکہ میں موجود ہیں وہ امریکی شہری نہیں ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ یہ اپیل سپریم کورٹ میں ایک عمل کا آغاز کرتی ہے جو شہریت کی پابندیوں کی آئینی حیثیت کے بارے میں ججوں کی طرف سے حتمی فیصلے کا باعث بن سکتی ہے۔
اب تک نچلی عدالتوں کے ججوں نے ان پابندیوں کے اطلاق کو کسی بھی جگہ پر روک رکھا ہے۔ ریپبلکن انتظامیہ عدالت سے یہ مطالبہ نہیں کر رہی کہ وہ اپنا فیصلہ صادر کرنے سے پہلے ان پابندیوں کو لاگو کرنے کی اجازت دے۔ سی این این کے مطابق امریکی آئین کی چودہویں ترمیم کی منظوری کے ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے ایک اپیل میں سپریم کورٹ کو بتایا کہ یہ تصور غلط ہے اور یہ پھیل چکا ہے اور اس کے تباہ کن نتائج سامنے آرہے ہیں۔ یہ ترمیم امریکہ میں پیدا ہونے والے افراد کو امریکہ کی شہریت دے دیتی ہے۔
20 جنوری کو ٹرمپ نے امریکی شہریت کے معنی اور قدر کا تحفظ کے عنوان سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت ان بچوں کو امریکی شہریت کو تسلیم کرنے والی دستاویزات جاری نہیں کرے گی جو امریکی سرزمین پر ایسے والدین کے ہاں پیدا ہوئے جو ملک میں غیر قانونی طور پر موجود تھے یا جو قانونی طور پر لیکن عارضی طور پر امریکہ میں موجود تھے۔