امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 25 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

ترک صدر ایردوآن کی معاہدے کے بعد غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی "کاوشوں اور قیادت" کی تعریف کی جب امریکی رہنما نے امریکی سرپرستی میں پیش کردہ امن تجویز کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمایت حاصل کی۔

واشنگٹن میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان گفتگو کے بعد وائٹ ہاؤس نے ایک 20 نکاتی منصوبہ جاری کیا جس میں فوری جنگ بندی، اسرائیل کے زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کا حماس کے پاس موجود اسرائیلی قیدیوں سے تبادلہ، غزہ سے اسرائیلی انخلاء، حماس کو غیر مسلح کرنا اور ایک بین الاقوامی ادارے کی سربراہی میں عبوری حکومت کا قیام شامل ہے۔

یہ واضح نہیں تھا کہ آیا حماس اس معاہدے کو قبول کرے گی۔

"میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں اور قیادت کو سراہتا ہوں جس کا مقصد غزہ میں خونریزی روکنا اور جنگ بندی کا حصول ہے،" ایردوآن نے کہا جنہوں نے گذشتہ ہفتے چھے سالوں میں پہلی بار ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

انہوں نے ایکس پر مزید کہا، ترکیہ "ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کے لیے تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول" عمل میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

ترک وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے نے پیر کو بتایا کہ وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے فون پر ٹرمپ کی تجویز کے بارے میں سعودی عرب، قطر اور اردن کے ہم منصبوں سے تبادلۂ خیال کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں