صدر ڈونلڈ ٹرمپ، پیر، 29 ستمبر، 2025، واشنگٹن میں، وائٹ ہاؤس کے اسٹیٹ ڈائننگ روم میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کے دوران گفتگو کر رہے ہیں۔ (اے پی فوٹو/ایلکس برینڈن)

غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کی تجویز ... اسرائیلی اپوزیشن کا حمایت کا اعلان

گینٹز اور لیپڈ نے امریکی صدر کے منصوبے کی حمایت کی، جسے نیتن یاہو کی تائید بھی حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اپوزیشن کے دو سرکردہ رہنماؤں نے پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ اُس امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا جس کا مقصد غزہ کی جنگ کو ختم کرنا ہے۔

اسرائیلی کنیسٹ کے رکن بینی گینٹز نے ایک پوسٹ میں "ایکس" پر لکھا کہ ٹرمپ کا جنگ بندی کا یہ منصوبہ جو تقریباً دو برس سے جاری لڑائی کو ختم کرنے کا راستہ دکھاتا ہے، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیل کے تحفظ کا ایک اہم موقع ہے۔

گینٹز نے لکھا کہ "میں صدر ٹرمپ کو اُن کی ان تھک کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کا مقصد ہمارے قیدیوں کی واپسی اور اسرائیل کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "صدر کی منصوبہ بندی پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے تاکہ تمام قیدیوں کو واپس لایا جا سکے، سیکیورٹی آپریشنز کی آزادی برقرار رہے اور حماس کی حکومت کا خاتمہ کیا جا سکے"۔

گینٹز نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو متنبہ کیا کہ وہ "تنگ نظری پر مبنی سیاست" کے باعث اس معاہدے کو سبوتاژ نہ کریں، ان کا اشارہ اُن وزرا کی طرف تھا جو جنگ ختم کرنے کے مخالف ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسی طرح اسرائیلی اپوزیشن کے ایک اور رہنما یائر لیپڈ نے بھی امریکی منصوبے کی حمایت کی۔ انھوں نے "ایکس" پر لکھا کہ "صدر ٹرمپ کا منصوبہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مضبوط اور درست بنیاد فراہم کرتا ہے"۔

اسرائیلی وزیر تعلیم یوآف کیش نے ایکس پر کہا کہ "یہ معاہدہ جنگ کے تمام اہداف کے حصول کی راہ ہموار کرتا ہے"۔ وزیر ثقافت و کھیل میکی زوہار نے بھی اُسی پلیٹ فارم پر لکھا "اسرائیل طاقت کی پوزیشن سے امن قائم کر رہا ہے"۔ شاس پارٹی کے سربراہ آریہ درعی نے بھی کہا "میں صدر ٹرمپ کے منصوبے کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتا ہوں"۔

اپوزیشن جماعت ’ڈیموکریٹس‘ کے رہنما یائر گولان نے حکومت میں موجود اُن وزرا پر بالواسطہ تنقید کی جو جنگ کے خاتمے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا "جنگ کا خاتمہ، قیدیوں کی واپسی، حماس کو غیر مسلح کرنا اور اُس کی حکومت ختم کرنا ... اگر کوئی شخص ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کرتا ہے تو اُس کی اسرائیل دشمنی میں کوئی کسر نہیں"۔

انھوں نے "ایکس" پر مزید لکھا کہ "ہم پارلیمانی سطح پر اس منصوبے کے لیے مکمل حفاظتی نیٹ ورک فراہم کریں گے لیکن حقیقی خوشی اُس وقت ہو گی جب تمام قیدی واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے"۔

اسی طرح اسرائیلی نجی چینل 12 نے سابق چیف آف اسٹاف اور ’یشار‘ پارٹی کے سربراہ گادی آیزنکوٹ کا بیان نشر کیا جس میں انھوں نے کہا "ہمیں فوری طور پر مشکل فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ قیدیوں کو فوراً واپس لایا جا سکے"۔ انھوں نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "وزیر اعظم ! اپنی حکومت میں موجود انتہا پسندوں کی سیاسی دھمکیوں کو نظر انداز کریں۔ عوام قیدیوں کی واپسی کے حق میں ہیں اور کنیسٹ میں بھی اس کے لیے واضح اکثریت موجود ہے"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ کی نمائندہ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا "ہم امید کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے طے پانے والے اس تاریخی معاہدے کے اعلان کے بعد اب سب سُکھ کا سانس لیں گے، جس کے تحت 48 قیدیوں کی واپسی اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا "اصل امتحان اب اس معاہدے پر فوری عمل درآمد ہے"۔

تنظیم نے زور دیا کہ "چونکہ ٹرمپ کا منصوبہ تمام فریقوں نے قبول کر لیا ہے، وزیر اعظم کو چاہیے کہ فوراً غزہ شہر میں جاری فوجی کارروائی بند کرنے کا حکم دیں، کیونکہ یہی کارروائیاں اس وقت قیدیوں ، فوجیوں اور اس تاریخی معاہدے کے نفاذ کو خطرے میں ڈال رہی ہیں"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی روز اس امن منصوبے کا اعلان کیا تھا، جسے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی حمایت کا یقین دلایا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ اگر حماس نے منصوبے کو مسترد کیا تو وہ ’مشن مکمل کرنے‘ کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ منصوبے کے مطابق جنگ فوراً روک دی جائے گی اور اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی کھلی منظوری کے 72 گھنٹے بعد غزہ میں موجود تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جس کے بعد اسرائیل اُن فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جو سزائے موت کے منتظر ہیں۔

منصوبے میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ غزہ کو غیر مسلح علاقہ بنایا جائے گا اور اسے فلسطینی ماہرین اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک عبوری کمیٹی کے تحت چلایا جائے گا۔ اس کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا جس کی سربراہی خود ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ اس کمیٹی یا نظام میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

ذرائع کے مطابق قطر اور مصر کے ثالثوں نے منصوبے کا متن حماس کو بھی فراہم کر دیا ہے اور تنظیم نے اسے "نیک نیتی" سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں