غزہ کا منظر

تل ابیب میں غزہ منصوبے پر گرما گرم بحث ... نیتن یاہو کی دائیں بازو کو مطمئن کرنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ غزہ امن منصوبے پر سخت اور گرما گرم بحثوں کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس کو منظور کر چکے ہیں۔ ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے کے مطابق "یہ منصوبہ کسی قسم کی مذاکراتی گنجائش نہیں رکھتا، اسرائیل اسے اپنائے گا، سوائے چند تکنیکی امور کے"۔ اس ذریعے نے مزید کہا "جوں ہی حماس منصوبے پر رضامندی ظاہر کرے گی، ہمیں توقع ہے کہ 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو اسرائیل میں واپس دیکھیں گے"۔

تاہم پس منظر میں صورت حال مختلف ہے۔ اسرائیلی اعلیٰ سطحی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات سخت ہوں گے اور ممکنہ طور پر کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات کا ایک بڑا حصہ اس سوال پر منحصر ہے کہ کیا حکومت واقعی اس بار کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتی ہے؟

غزہ سے 30 ستمبر (رائٹرز)

دیگر ذرائع نے بتایا کہ نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوئیر اور وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ کو آگاہ کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو غزہ پر کنٹرول نہیں دیا جائے گا۔ یہ معلومات ایسے وقت سامنے آئیں جب ٹرمپ نے حماس کو منگل کے روز 3 سے 4 دن کی مہلت دی تاکہ وہ جنگ بندی کے اس امریکی منصوبے پر اپنا جواب ثالثوں کو دے۔

یہ پیش رفت نیتن یاہو کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام پر نہ تو ماضی میں راضی ہوئے اور نہ آئندہ ہوں گے، حالانکہ منصوبے میں مستقبل میں اس امکان پر غور کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی افواج اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد بھی غزہ کے بیشتر علاقوں میں موجود رہیں گی، جبکہ منصوبے میں بتدریج انخلا کی بات کی گئی ہے۔

ادھر بن گوئیر اور سموٹرچ نے منگل کو اس منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے "بڑی اور خطرناک سفارتی ناکامی" قرار دیا، جو اسرائیل کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

دوسری جانب حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ تنظیم اس منصوبے کا "اپنے اصولوں کے مطابق مثبت انداز میں" جائزہ لے گی اور جواب دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس نے منصوبے کی 20 شقوں پر مشتمل تفصیلات کا کچھ حصہ جاری کیا ہے، جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر فریقین (اسرائیل اور حماس) اس پر متفق ہو جائیں تو جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔ منصوبے کے مطابق غزہ کو غیر مسلح علاقہ بنایا جائے گا اور وہاں ایک فلسطینی کمیٹی بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ انتظام سنبھالے گی، جبکہ حماس کا اس میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں