کولمبیا یونیورسٹی کے طلباء نیویارک شہر میں 26 اپریل 2024 کو گزشتہ ہفتے 100 سے زیادہ مظاہرین کی گرفتاری کے بعد اپنے کیمپس میں جاری فلسطینی حامی کیمپ میں شرکت کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی کے ذریعے)
ایک امریکی عدالت نے غیر ملکی طلبہ و طالبات کو فلسطینیوں کی حمایت کرنے اور غزہ جنگ کی مخالفت کرنے کی بنیاد پر گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے اور ویزا پالیسی سے متعلق سارے اقدامات کو امریکی آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ عدالت کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کالجوں کے کیمپسز میں آزادی تقریر کے حق کو منجمد کیا جانا بھی آمریکہ کے آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
بوسٹن میں امریکی جج ولیم ینگ نے یونیورسٹیوں کی نمائندگی کرنے والے فیکلٹی سے متعلق ایک گروپ کے عدالت کے سامنے تیار کیے گئے مؤقف کی طرف داری کی ہے اور کہا ہے امریکی انتظامیہ کے اقدامات آئین کی پہلی ترمیم سے متصادم ہیں۔
تاہم عدالت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس فیصلے میں صرف یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اقدمات خلاف آئین ہیں۔ اس سلسلے میں عدالت کو مزید کیا حکم جاری کرنے ہیں ابھی دیکھا جانا ہے۔ جج ولیم ینگ کے مطابق وہ انتظامیہ کی طرف سے غیر آئینی اقدامات کے حوالے سے یہ بھی دیکھیں گے کہ اس معاملے کی سزا کیا ہونی چاہیے اور ازالے کے لیے کیا اقدمات ضروری ہیں اس کا فیصلہ اگلے مرحلے میں جاری کریں گے۔
فیکلٹی کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ غیر قانونی پالیسی اختیار کرنے سے روکیں۔ نیز سٹوڈنٹس کو دھمکیاں دینے، گرفتار کرنے اور ملک بدر کرنے سے بھی روکیں۔
یاد رہے جج ولیم ینگ کو ری پبلک صدر رونالڈ ریگن کے زمانے میں تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے ایک عدالتی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک ریپبلکن صدر کے ہی خلاف ان کے انتہا پسندانہ اقدامات بحوالہ امیگرنٹس فیصلہ دیا ہے۔
ان کی عدالت میں یہ مقدمہ ماہ مارچ میں دائر کیا گیا تھا جب امریکی امیگریشن حکام نے کولمبیا یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ محمود خلیل کو فلسطینیوں کے حق میں اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف رائے کے اظہار پر گرفتار کر کے کارروائی کا نشانہ بنایا تھا۔
اس کے بعد سے اب تک امریکی انتظامیہ سینکڑوں سٹوڈنٹس اور سکالرز کے ویزے منسوخ کر چکی ہے۔
ان سٹوڈنٹس میں رومیسہ اوزترک نامی ایک سٹوڈنٹ بھی شامل ہیں۔ جن کاتعلق ٹفٹس یونیورسٹی سے تھا۔ رومیسہ کی گرفتاری اس لی کی گئی کہ انہوں نے اسرائیلی کی غزہ جنگ کے بارے میں اپنی یونیورسٹی کی پالیسی کو اپنی ایک تحریر میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم امریکی ججوں نے اس طرح کے مقدمات میں گرفتار کیے گئے سٹوڈنٹس کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔
اس طرح کی گرفتاریاں ہی ولیم ینگ کی عدالت میں اس مقدمے کی بنیاد ہیں جو امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز ، ہارورڈ اور نیویارک یونیورسٹی میں اس کے چیپٹرز اور مڈل ایسٹ سٹڈیز ایسوسی ایشن نے دائر کر رکھا ہے۔
ان فیکلٹی گروپس کے وکلاء نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کے اقدامات سیاسی تقریر کے لیے امریکی آئین میں دیے گئے تحفظ کے خلاف ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ کے ماتحت امریکی محکمہ انصاف نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ ملک بدری کی کوئی باقاعدہ پالیسی موجود نہیں ہے۔
انتظامیہ نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور یہودی طلبہ کے تحفظ کے لیے امیگریشن قوانین کو نافذ کرنے کے لیے اپنے وسیع صوابدیدی اختیارات پر عمل کیا ہے۔