غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج (اے ایف پی)

مشن مکمل کریں گے اور قیدیوں کو واپس لائیں گے: اسرائیل کی حماس کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے چار دن کے اندر ان کے امن منصوبے پر جواب نہ دیا تو اسے ’’جہنم‘‘ اور ایک سنگین انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی موقع پر اسرائیل نے بھی ان دھمکیوں کو دہرایا ہے۔

"اسرائیل ہر حال میں قیدیوں کو واپس لائے گا"

اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب دانی دانون نے کہا کہ اگر حماس نے امریکی منصوبے کو مسترد کیا تو اسرائیل مشن مکمل کرے گا اور یرغمالیوں کو ہر حال میں واپس لائے گا۔ ان کے بہ قول "اگر انہوں نے منصوبہ مسترد کیا تو اسرائیل یہ مشن یا تو آسان طریقے سے مکمل کرے گا یا مشکل طریقے سے، انتظار ممکن نہیں"۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ کے منصوبے کا جائزہ لینے میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ٹرمپ کا دوٹوک پیغام

منگل کے روز وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ "حماس کے پاس تین یا چار دن ہیں ورنہ اسرائیل جو ضروری ہوگا کرے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم حماس کے اچھے رویے اور منصوبے کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ زیادہ بات چیت کی گنجائش نہیں"۔

امریکی صدر کے مطابق کئی عرب ممالک نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے اور بعض نے اس کی تیاری میں کردار بھی ادا کیا۔ بعد ازاں سیکڑوں امریکی فوجی افسران سے خطاب میں ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو سنگین انجام کی دھمکی دی۔

حماس اور دیگر فریقوں کی مشاورت

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے کہا کہ تحریک ہر تجویز اور حل پر بات کرنے کو تیار ہے لیکن اپنے قومی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ حماس نے اپنی سیاسی و عسکری قیادت اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ منصوبے پر مشاورت شروع کر دی ہے اور جواب اجتماعی طور پر دیا جائے گا۔ ان مشاورتوں میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے تصدیق کی کہ ان کا ملک امریکی تجویز حماس کو پہنچا چکا ہے، لیکن ابھی جواب دینا قبل از وقت ہے۔

20 نکاتی منصوبہ

گذشتہ روز وائٹ ہاؤس نے بیس نکاتی منصوبے کی کچھ تفصیلات جاری کیں ۔ اس کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اسرائیل اور حماس کی منظوری کی صورت میں فوری جنگ بندی کی جائے۔

منصوبے کے مطابق غزہ کو غیر مسلح کر کے ایک فلسطینی کمیٹی اور بین الاقوامی ماہرین کے تحت چلایا جائے گا اور حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ منصوبہ ابھی مزید تفصیل چاہتا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ یہ تجویز اس بار کامیاب ہوگی کیونکہ اسے عرب اور یورپی حمایت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران غزہ میں جنگ بندی کے لیے بارہا مذاکرات ہوئے لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ اس دوران اسرائیل نے بمباری اور محاصرہ جاری رکھا جس کے باعث فلسطینی عوام بار بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں