جزیرہ نما عرب میں قدیم نوشتہ جات (سائنس الرٹ)
12 ہزار سال پرانے نقوش نے صحرا میں زندگی کے پوشیدہ راز بتا دیے
ارضیاتی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے اُس دور میں یہ خطہ آج کی طرح خشک نہیں بلکہ زیادہ نم و شاداب تھا اور یہاں عارضی یا موسمی جھیلیں بھی ہوا کرتی تھیں
بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے شمالی جزیرہ نما عرب میں دیوہیکل چٹانی نقوش میں نایاب آثار قدیمہ دریافت کیے ہیں، جن کی عمر تقریباً 12 ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔
یہ نقوش انسانی تاریخ میں بصری ابلاغ کی قدیم ترین شکلوں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں انسان نے سخت صحرائی ماحول میں بقا سے جڑی اہم معلومات پہنچانے کے لیے استعمال کیا تھا۔
نقوش نفاست سے کندہ تھے
معروف سائنسی جریدے ScienceAlert کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ دریافت شدہ نقوش شمالی عرب کے جبل ارنان، جبل ملیحہ اور جبل مصمّی میں پائے گئے ہیں، جن میں جانوروں کی تصاویر جیسے اونٹ، جنگلی بکرے، جنگلی گدھے، ہرن اور قدیم جنگلی بیل (اورَک) شامل ہیں، بعض تصویروں کی لمبائی تین میٹر اور اونچائی دو میٹر تک ہے۔
ان نقوش کو متواضع پتھریلے اوزاروں کی مدد سے انتہائی باریک بینی سے تراشا گیا تھا جو نہ صرف اس دور کے باسیوں کی فنکارانہ مہارت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ایک منظم اجتماعی محنت کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔
جزیرہ نما عرب میں قدیم نوشتہ جات (سائنس الرٹ)
بقا کی علامت
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نقوش صرف جمالیاتی اظہار نہیں تھے بلکہ بصری نقوش کی حیثیت رکھتے تھے، جو اُس زمانے میں انسانوں اور جانوروں کی زندگی کے لیے ضروری موسمی پانیوں کے مقامات کی نشاندہی کرتے تھے۔
شدید خشک سالی کے ماحول میں یہ نشانات خانہ بدوش قبائل کے لیے پانی کے ذرائع تک پہنچنے میں ایک لینجنڈ کا کام کرتے تھے۔ پانی کی کمی کے اوقات میں یہ علامتیں ان کی رہنمائی کرتیں اور یوں عرب کے صحراؤں میں ان کے بقا کے وسائل کو سہارا دیتیں۔
آثار قدیمہ کے نوشتہ جات (سائنس الرٹ)
روشنی سے تاریخ
مزید یہ کہ ماہرین نے ان نقوش کی عمر جاننے کے لیے تاریخ بالضوء (Luminescence Dating) کی تکنیک استعمال کی، جس کے ذریعے ان کے نیچے موجود تہہ کی عمر معلوم کی گئی۔
نتائج سے پتا چلا کہ یہ تقریباً 12 ہزار سال پرانے ہیں۔ ان کے قریب پتھریلے اوزار، تیر کے نوک دار سرے، پتھروں کے دانے اور حتیٰ کہ سمندری صدف (shell) سے بنا ایک موتی بھی ملا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس وقت یہاں کے لوگ قریبی خطوں، خصوصاً بلادِ شام کی برادریوں کے ساتھ ثقافتی اور تجارتی تعلقات رکھتے تھے۔
جزیرہ نما عرب میں قدیم نوشتہ جات (سائنس الرٹ)
صحرا میں جھیلوں کی موجودگی
ارضیاتی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اُس زمانے میں یہ علاقہ زیادہ نم تھا اور یہاں موسمی جھیلیں موجود تھیں، جنہوں نے آخری برفانی دور کے بعد انسان کو بسنے میں مدد دی۔ اس ماحولیاتی تبدیلی نے قدیم انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ دوبارہ آباد ہو سکے اور فطرت کے ساتھ زیادہ گہرے تعلق قائم کر سکے۔
جزیرہ نما عرب میں قدیم نوشتہ جات
اونٹ کی علامتی حیثیت
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان نقوش میں سب سے زیادہ بار بار اونٹ ہی کو تراشا گیا ہے، جو صحرائی ثقافت میں اس کی گہری علامتی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ آج تک اونٹ صبر، بقا اور برداشت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور یہ قدریں ہزاروں سال سے اس خطے کے لوگوں کے اجتماعی شعور میں رچی بسی ہیں۔