5 نومبر 2024 کو ڈریسڈن، جرمنی میں نقاب پوش جرمن پولیس افسران نسل پرستانہ نظریے اور سازشی نظریات پر مبنی دائیں بازو کے عسکریت پسند گروپ کے آٹھ مشتبہ ارکان کو گرفتار کرنے کے بعد ایک گھر کی حفاظت کر رہے ہیں جو جدید جرمن ریاست کے خاتمے کے لیے جنگ کی تربیت لے رہے تھے۔ REUTERS/Mathias Rietschel
جرمنی میں تین افراد کی گرفتاری، حماس سے تعلق کا شبہ
جرمن حکام نے تین افراد کو حماس سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کر لیا۔ جرمن حکام کے مطابق یہ تینوں افراد جرمنی میں کسی بڑے پرتششد واقعے کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ بات جرمنی کے پراسیکیوٹر نے بدھ کے روز کہی ہے۔
تینوں گرفتار کیے گئے افراد پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ اس سال موسم گرما سے حماس کے لیے اسلحہ کی خریداری میں بھی ملوث رہے ہیں۔ الزام کے مطابق یہودی اداروں اور اسرائیلیوں کو نشانہ بنا سکیں۔
فیڈرل پراسیکیوٹر نے اپنے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گرفتاری کے اس عمل میں تینوں افراد سے ایک اے کے 47 رائفل، متعدد پستولیں اور قابل لحاظ مقدار میں بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب حماس نے اپنے ایک بیان میں ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان تینوں افراد کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تینوں گرفتار کیے گئے افراد کی جرمنی کے پرائیویسی سے متعلق پالیسی کے مطابق شناخت کو صرف جرمن شہری ہونے کی حد تک سامنے لایا گیا ہے۔
جرمن شہری عابد ایل جی اور وائل ایف ایم لبنان کے بھی رہائشی ہیں جبکہ احمد جرمن شہری ہے۔ ان افراد کو دارالحکومت برلن سے گرفتار کیا گیا ہے۔
فروری میں بھی 4 افراد کو حماس سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جن پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ یہودی اداروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان کے خلاف برلن میں مقدمہ چلا۔
پراسیکیوٹر کا کہنا ہے جرمنی میں کسی فلسطینی گروپ سے وابستہ کسی شخص کے خلاف یہ پہلا مقدمہ تھا۔
اخبار 'سپیجل' کے مطابق انسداد دہشت گردی سے متعلق تفتیش کاروں نے بدھ کے روز زیر حراست افراد سے ملاقات کی اور اسلحہ آپریشنل فورسز کے سپرد کر دیا۔