cybersecurity-awareness-month-2024-Gould

سعودی عرب نے بچوں کے تحفظ کے لیے نیا عالمی "سائبر سیکیورٹی انڈیکس" متعارف کرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ’’ فورم برائے بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی ‘‘ نے ’’ ڈی کیو انسٹیٹیوٹ ذ‘ اور دیگر عالمی تنظیموں کے تعاون سے ’’ بچوں کے تحفظ کا سائبر انڈیکس ‘‘ لانچ کردیا۔ یہ انڈیکس بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول بنانے میں عالمی پیش رفت کو جانچنے کا ایک آلہ ہوگا۔

یہ انڈیکس پالیسی سازوں کو عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ سکولوں، والدین، ٹیکنالوجی ڈھانچے، نجی شعبے اور قومی پالیسیوں میں بچوں کے تحفظ کو مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام ولی عہد محمد بن سلمان کی بچوں کے سائبر تحفظ کی عالمی پہلکا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا بھر کے 150 ملین سے زیادہ بچوں تک پہنچنا اور 16 ملین سے زیادہ افراد کو ڈیجیٹل سیفٹی کی تربیت دینا ہے۔

اس سے قبل اس فورم نے 24 ممالک کے 40 ہزار شرکاء پر مشتمل ایک عالمی سروے کیا تھا جس سے سائبر تحفظ کے تقاضوں پر جامع فہم قائم ہوا اور جس کی بنیاد پر کئی بین الاقوامی منصوبے اور تعاون وجود میں آئے۔ مزید برآں اس ادارے نے ’’ یونیسف ‘‘ کے تعاون سے 30 سے زیادہ ملکوں میں بچوں کے لیے ہیلپ لائنز قائم کیں اور 50 لاکھ سے زیادہ والدین اور سرپرستوں کو سائبر تحفظ کی تربیت فراہم کی۔

اسی ضمن میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے سعودی عرب کی جانب سے بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ پر پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی جسے پاکستان، الجزائر، کویت، آذربائیجان اور ویتنام سمیت کئی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ یہ اقدام اس امر کا مظہر ہے کہ سعودی عرب عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی، بچوں کے تحفظ اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں