من احتجاجات حركة "فلسطين أكشن"
مانچسٹر میں عبادت گاہ پر مہلک حملے کے بعد اسے منسوخ کرنے کے مطالبات کے باوجود لندن پولیس نے ہفتے کے روز ایک مظاہرے کے دوران ممنوعہ فلسطینی حامی گروپ ’’ فلسطین ایکشن ‘‘ کی حمایت کرنے پر درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ جمعرات کو شمال مغربی برطانوی شہر میں ہونے والے حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے اور حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی پولیس نے کہا کہ حملہ آور شامی نژاد برطانوی شخص تھا اور وہ شدت پسند خیالات کا حامل ہو سکتا ہے۔ مظاہرے کے منتظمین نے پولیس اور حکومت کی جانب سے اسے منسوخ کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔ یہ مظاہرہ انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت فلسطینی حامی ’’ فلسطین ایکشن موومنٹ ‘‘پر پابندی کے خلاف احتجاج کے لیے کیا گیا تھا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ہفتے کی صبح ’’ ایکس ‘‘ پر ایک پوسٹ میں پرسکون رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا۔ کہ میں اس ہفتے کے آخر میں احتجاج کرنے پر غور کرنے والے ہر فرد سے برطانوی یہودیوں کے غم کا احترام کرنے پر زور دیتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ غم کا لمحہ ہے، کشیدگی کو ہوا دینے اور مزید تکلیف پہنچانے کا وقت نہیں ہے۔ یہ ایک ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
پولیس نے وسطی لندن کے ٹریفلگر سکوائر میں مظاہرین کو اس وقت گرفتار کیا جب انہوں نے ’’ فلسطین ایکشن ‘‘ کی حمایت میں نعرے والے نشانات اٹھا رکھے تھے۔ ’’ فلسطین ایکشن ‘‘ پر جولائی میں اس کے ارکان کی جانب سے ایک ایئربیس پر حملہ کرنے اور فوجی طیارے کو نقصان پہنچانے کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ سینٹرل لندن میں احتجاج کے لیے سینکڑوں لوگ جمع ہوئے جہاں پولیس نے حراست میں لیے گئے لوگوں کے لیے تالیوں اور خوشیوں کے درمیان بغیر کسی مزاحمت کے کچھ کو ہٹانا شروع کر دیا۔ کچھ نے افسران پر " شیم آن یو" کے نعرے لگائے۔ ایک الگ واقعے میں پولیس نے پارلیمنٹ کے باہر ویسٹ منسٹر پل پر ’’ فلسطینی ایکشن ‘‘ کا بینر لہرائے جانے کے بعد چھ مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
احتجاج کا سلسلہ
یہ مظاہروں کے سلسلے کا حالیہ واقعہ ہے جس میں تحریک کی حمایت کو جرم قرار دینے پر حکومتی پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ ہفتہ کے احتجاج سے سکیورٹی کے لیے مختص وسائل ضائع ہو سکتے ہیں جو جمعرات کے حملے کے بعد عبادت گاہوں اور مساجد کے ارد گرد تعینات کیے گئے تھے۔ ہفتہ کے احتجاج کا اہتمام کرنے والی جیوری ڈیفنس آرگنائزیشن نے مانچسٹر کی یہودی برادری پر حملے کی مذمت کی اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرے کی بجائے حملے پر توجہ دیں۔