A third of humanity is deprived of seeing the Milky Way

ایک تہائی انسانیت ملکی وے کہکشاں دیکھنے سے محروم ہے

ایک مطالعے کے مطابق اس کی وجہ نوری آلودگی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہکشاں کے ستاروں کی پٹی یعنی ملکی وے (راہِ شیری) کو برہنہ آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے بشرطیکہ مطلع صاف اور نوری آلودگی سے پاک ہو۔ تاہم بدقسمتی سے زمین کی آبادی کا ایک تہائی حصہ کبھی بھی اس کہکشاں کو نہیں دیکھ سکے گا۔

جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے رکن انجینئر ماجد ابو زہرہ کی شائع کردہ ایک تحقیق کے مطابق زمین کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی اب کہکشاں کو نہیں دیکھ سکتی۔

ابو زہرہ نے کہا: "ہزاروں سالوں سے ملکی وے نے انسانیت کے سفر میں اس کی رہنمائی کی ہے، اس کے اسرار کو متأثر کیا ہے اور اس کے سائنسی تجسس کو ہوا دی ہے۔ لیکن یہ دلکش کائناتی نظارہ اب ہر کسی کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ ایک حالیہ سائنسی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ زمین کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی اب کہکشاں کو نہیں دیکھ سکتی۔"

نوری آلودگی کے عالمی اٹلس کے مطابق ملکی وے کی چمکدار پٹی 60 فیصد یورپی اور 80 فیصد شمالی امریکیوں کے لیے غیر مرئی ہو گئی ہے۔ یہ سنگاپور، کویت اور مالٹا جیسے ممالک کے تقریباً تمام باشندوں کے لیے بھی اب نادیدہ ہے۔ برطانیہ میں 77 فیصد آبادی اسے نہیں دیکھ سکتی۔

اس کی وجہ سرچ لائٹس، نیون سائنز کی، سڑکوں کی اور ایل ای ڈی بتیوں سے ہونے والی نوری آلودگی ہے۔ یہ بتیاں اپنی شعاعوں کو آسمان کی طرف منعکس کرتی ہیں جس سے ایک "چمک دار کہرا یا دھند" پیدا ہوتی ہے جو ستاروں کو دھندلا دیتی ہے۔ اربوں لوگ صرف چند عشروں میں

اس بصری اور ثقافتی ورثے سے محروم ہو رہے ہیں جو 20ویں صدی سے پہلے کی تمام نسلوں کے لیے تھا۔

نوری آلودگی صرف آسمان کو متأثر نہیں کرتی۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے جنگلی حیات مثلاً مہاجر پرندوں اور حشرات کے لیے بھی خلل پیدا ہوتا ہے۔ یہ نیند اور قدرتی گھڑی کے تال میل میں مخل ہو کر انسانی صحت کو بھی متأثر کر سکتی ہے۔

حالات کی اس تاریک تصویر کے باوجود محققین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مسئلے کے حل موجود ہیں جیسے سایہ دار لیمپ کا استعمال اور روشنیوں کا سمارٹ نظام اختیار کرنا جو صرف ضرورت کے وقت کام کرتی ہوں۔ یہ تاروں بھرا آسمان بحال کرنے کا ایک حل ہو سکتا ہے۔ دنیا کے طول و عرض میں بعض علاقے جیسے تاریک آسمان کے ذخائر ایک غیر معمولی تجربہ پیش کرتے ہیں جن سے ہمارے لیے ملکی وے کو اس کی شاندار وسعت اور دلکش تفصیل کے ساتھ دیکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔

ہمارے آباؤ اجداد نے آسمان کی طرف دیکھا اور ملکی وے کے ذریعے کائنات میں اپنا مقام دریافت کیا۔ آج سائنس دان رات کے آسمان کو محفوظ کرنے کی ہماری صلاحیت سے اپنی امیدیں وابستہ کر رہے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کو آسمان کی طرف دیکھنے اور اس میں اپنی جگہ تلاش کرنے کا حق حاصل رہے۔

ملکی وے

ملکی وے ایک بڑی، بند پیچ دار کہکشاں ہے۔ تمام ستارے جو ہم رات کے آسمان میں دیکھتے ہیں، وہ ہماری کہکشاں کے اندر واقع ہیں۔ اس کو ملکی وے اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ جب اسے انتہائی تاریک علاقے سے دیکھا جائے تو یہ آسمان میں روشنی کی دودھیا پٹی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

ملکی وے وہ کہکشاں ہے جس سے سورج، زمین اور ہمارے نظام شمسی کا باقی حصہ تعلق رکھتا ہے۔ ملکی وے سینکڑوں اربوں ستاروں پر مشتمل ہے اور ایٹموں، گرد اور گیس کے وسیع بادل اس کی وسعتوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اس میں 200 سے 400 بلین ستارے ہیں۔ صاف مطلع اور تاریک راتوں میں ملکی وے آسمان پر پھیلے ہوئے ستاروں کے نور کی ایک وسیع، بھوری پٹی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اسی لیے اس کا نام ملکی وے ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں