9 اکتوبر 2025 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا ہے، فلسطینی جشن منا رہے ہیں۔ REUTERS/Ramadan Abed

اسرائیل نے غزہ میں حملے روک دیے، حماس کا کل بڑے شہروں سے انخلا کا مطالبہ

غزہ میں جشن، جنگ بندی منظوری کے بعد ہی نافذ ہوگی: اسرائیلی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں جنگ بندی کے آغاز پر شہریوں کی جشن کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے جمعرات کو واضح کیا ہے کہ معاہدہ ابھی باضابطہ طور پر نافذ نہیں ہوا، کیونکہ اس کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہے۔ تاہم دفتر نے اعلان کیا کہ غزہ میں تمام حملہ آور کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق "72 گھنٹوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور مرحلہ صرف کابینہ کی منظوری کے بعد شروع ہوگا، جو شام کے اجلاس میں متوقع ہے"۔

فوجی سازوسامان ہٹانے کا آغاز

اسی دوران اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج نے غزہ میں بھاری فوجی سازوسامان کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ فوج کی جانب سے نئے دفاعی خطوط پر از سرِ نو تعیناتی اور "پیلی لان" کہلانے والے علاقوں تک انخلا کی تیاریوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں نے الرشید کوسٹل ہائی وے کو بند کر دیا ہے تاکہ بے گھر فلسطینیوں کو غزہ شہر واپس آنے سے روکا جا سکے۔

غزہ میں سول ڈیفنس حکام نے جنوبی علاقوں میں موجود شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فی الحال شمال کی جانب نقل مکانی نہ کریں، کیونکہ اسرائیلی فورسز تاحال شمالی حصے میں واپسی کی اجازت نہیں دے رہیں۔

9 اکتوبر 2025 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا ہے، فلسطینی جشن منا رہے ہیں۔ REUTERS/Ramadan Abed


انخلا کے بعد ہی قیدیوں کا تبادلہ ہوگا

دوسری جانب حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو جمعے کے روز تک غزہ کے تمام بڑی شہروں سے انخلا کرنا ہوگا۔ تحریک نے مزید واضح کیا کہ قیدیوں اور مغویوں کے تبادلے کا عمل اسی وقت شروع ہوگا جب مکمل جنگ بندی ہو جائے اور فوجی انخلا مکمل کر لیا جائے۔

حماس نے بتایا کہ معاہدے میں غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے پانچ گذرگاہیں کھولنے کی شق بھی شامل ہے۔

انہیں امریکہ اور دیگر ثالثوں کی جانب سے یہ ضمانت ملی ہے کہ اسرائیل دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع نہیں کرے گا۔

غزہ اور تل ابیب میں خوشی کی فضا

اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے بعد غزہ میں فلسطینی عوام نے خوشیاں منائیں، جبکہ تل ابیب میں اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ نے بھی جشن منایا۔ معاہدے کے تحت تمام اسرائیلی قیدیوں زندہ یا جاں بحق افراد کی واپسی کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ فریقین غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے پر متفق ہو گئے ہیں، جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ یہ معاہدہ دو سال سے جاری خونی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سمجھوتا مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا، جن میں اسرائیل اور حماس کے علاوہ قطر، مصر، ترکیہ اور امریکہ نے بھی کردار ادا کیا۔ یہ معاہدہ امریکہ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے، جسے ستمبر 2025 کے آخر میں پیش کیا گیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں