مصر میں حماس-اسرائیل جنگ بندی معاہدے کا اعلان ہونے کے بعد نو اکتوبر 2025 کو وسطی غزہ میں دیر البلاح کے قریب الزوایدہ شہر میں ساحل سمندر کے کنارے بے گھر فلسطینیوں کے ایک عارضی کیمپ کا منظر۔ (اے ایف پی)
خان یونس، نصیرات کیمپ پر حملہ: اسرائیل پر غزہ امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام
حماس نے جمعہ کو صبح سویرے غزہ پر فضائی حملے جاری رکھنے پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو" پر جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثین کی کوششوں" میں حائل ہونے کا الزام لگایا۔
العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی کہ ایک اسرائیلی طیارے نے رات کو جنوبی غزہ میں خان یونس پر پرتشدد فضائی حملہ کیا جبکہ توپ خانے کے گولے وسطی غزہ میں نصیرات کیمپ کے شمال میں نیتزارم ایکسس کے قریب گرے۔
جیسا کہ جنگ بندی کا اعلان ہو جانے کے باوجود جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا تو اسرائیلی فوج نے غزہ میں شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب گولی لگنے سے ایک فوجی کی ہلاکت کا اعلان کیا۔
اسرائیلی حکومت نے جمعے کی صبح حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی منظوری دی جس کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا ہے۔ معاہدے سے غزہ میں 24 گھنٹے کے اندر جنگ بندی کے خاتمے اور 72 گھنٹوں کے اندر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ثالثین نے فلسطینی نظربندوں کے بدلے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کا اعلان کیا جو امریکی صدر کے پیش کردہ امن منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس معاہدے کی منظوری تقریباً 24 گھنٹوں کے بعد دی۔
سات اکتوبر 2023 کے حملے کی دوسری برسی کے صرف ایک دن بعد مصر کے تفریحی شہر شرم الشیخ میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی امریکی منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہوا۔