غزہ سے (آرکائیو - اے ایف پی)

حماس غزہ میں با اثر خاندانوں کی طاقت توڑنا چاہتی ہے : فلسطینی سیکورٹی فورسز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے ترجمان میجر جنرل انور رجب نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے تشدد اور درندگی کا استعمال اس کی شناخت اور طرزِ حکمرانی کا بنیادی حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ غزہ کی پٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھتی ہے۔

انھوں نے العربیہ/الحدث سے گفتگو میں بتایا کہ حماس نے دغمش خاندان کے گھروں پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی، جس کا مقصد غزہ کے با اثر خاندانوں کی طاقت توڑنا ہے۔

انور رجب کے مطابق حماس نے ان ملیشیاؤں کو نشانہ نہیں بنایا جن کا وہ ذکر کر رہی ہے، بلکہ اس نے اپنے حملے عام فلسطینی خاندانوں پر کیے۔ انھوں نے کہا کہ ان میں وہ خاندان بھی شامل ہیں جنھوں نے جنگ کے دوران فلسطینی عوام کو خوراک اور پناہ فراہم کی تھی۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ حماس نے حد یہ کر دی کہ اس نے بے گھر شہریوں کے خیموں پر بھی ٹیکس عائد کر دیا، حالانکہ غزہ کے عوام پہلے ہی انتہائی خراب انسانی حالات سے دوچار ہیں۔

فلسطینی صدارت نے منگل کے روز حماس کے ان اقدامات کی سخت مذمت کی ہے جن کے تحت تنظیم نے گزشتہ دنوں درجنوں شہریوں کو بغیر مقدمہ کے موقع پر ہی سزائے موت دے دی۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

صدراتی بیان میں ان کارروائیوں کو "بہیمانہ اور ناقابلِ قبول جرائم" قرار دیا گیا، جو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی اور قانون کی بالادستی پر کھلا حملہ ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ حماس طاقت اور دہشت کے ذریعے اپنی حکمرانی مسلط رکھنے پر تلی ہوئی ہے، جبکہ غزہ کے عوام جنگ، تباہی اور محاصرے کی تباہ کن صورت حال سے دوچار ہیں۔

بیان میں زور دیا گیا کہ قانون ہی واحد اتھارٹی ہے، اور اس قسم کی حرکات فلسطینی قوم کی وحدت اور سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان اقدامات کو قومی اور اخلاقی اقدار کے منافی اور ان تمام کوششوں کے خلاف قرار دیا گیا جو فلسطینی اداروں کو ایک قانون، ایک قیادت اور ایک ہتھیار کے تحت متحد کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

صدارت نے ان واقعات کی پوری ذمہ داری حماس پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر حماس کی مسلسل حکمرانی اسرائیل کو جواز فراہم کرتی ہے، تعمیرِ نو کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہے، تقسیم کو گہرا کرتی ہے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق پیر کے روز سامنے آنے والی وڈیوز میں حماس کے درجنوں جنگجو جنوبی غزہ کے ایک اسپتال کے باہر قطار میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک وڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی نقاب پوش مسلح افراد، جن میں بعض کے سر پر حماس کی طرز کی سبز پٹیاں بندھی ہیں، سات سے زیادہ مردوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے بعد ان پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں