یہ کولیج پارسیانہ میگزین کے سرورق کا ایک سلسلہ دکھاتا ہے۔ (ایک تصویر)
بھارتی پارسیوں کی شناخت جریدہ 60 سال بعد بند
بھارت میں پارسی کمیونٹی کا سب سے پرانا جریدہ 'پارسیانہ' اس ہفتے اپنی آخری اشاعت کا اہتمام کرے گا اور اس کے ساتھ ہی پچھلی 6 دہائیوں سے جاری اس جریدے کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔ یہ فیصلہ بھارت میں پارسی اقلیت کے لیے موجود بعض مسائل کی وجہ سے کیا گیا ہے جو اس آتش پرست مذہبی کمیونٹی کو بھارت میں درپیش ہیں۔
یہ رسالہ 1964 میں پیسٹین جی وارڈن نامی ایک ڈاکٹر نے شروع کیا تھا۔ شروع کے 9 برسوں میں یہ رسالہ پارسیوں کے مذہبی و تاریخی ورثے اور پارسیوں کے ادب کے موضوعات پر اپنی توجہ مرتکز کیے رکھا۔
تاہم 1973 میں اسے جہانگیر پٹیل نامی ایک شخص نے خرید لیا اور اسے ایک مختلف جریدے کے انداز میں شائع کرنا شروع کیا۔ جہانگیر پٹیل ییل یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد واپس بھارت پہنچے تھے۔ انہوں نے سانفرانسسکو ایگزامینر اور ہارٹفورڈ ٹائمز میں بھی کام کر رکھا تھا۔
یہ ممبئی میں اپنی نوعیت کا آزادی پسند پہلا جریدہ تھا۔ جہانگیر پٹیل نے اس میں پیشہ وارانہ بنیادوں پر صحافیوں کو بھرتی کیا اور ان تمام معاصر موضوعات کو کور کرنا شروع کیا جو بیک وقت پارسیوں اور بھارت سے متعلق تھے۔ وہ ایشوز بھارت کے اندرون سے بھی تعلق رکھتے تھے اور بیرون سے بھی۔ تاہم 60 سال بعد اس اخبار کی ریڈرشپ بہت سکڑ کر رہ گئی ہے حتیٰ کہ پارسی بھی اور یہ پچھلے چند برسوں میں بطور خاص سکڑی ہے۔
اس اخبار کے ایڈیٹوریل بورڈ نے اسے ایسے حال میں چھوڑا کہ اس کے پیچھے کوئی پروفیشنل ٹیم یہ ذمہ داری سنبھالنے کو موجود نہ تھی۔
اس پارسی جریدے کی موجودہ ٹیم صرف 15 ارکان پر مشتمل ہے جن میں سے اکثریت وہ ہے جو پچھلے 40 برسوں سے اس کے ساتھ منسلک ہے اور یہ لوگ اب 60 سے اوپر کی عمر میں ہیں جو ماضی کی طرح اپنی ورکنگ کو جاری نہیں رکھ سکتے۔
جہانگیر پٹیل نے اپنی اس ٹیم کے بارے میں کہا اس ٹیم میں ایک 80 سالہ خاتون بھی ہیں۔ اب نظر آتا ہے کہ کام کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ ان حالات میں پارسی صحافیوں کے علاوہ دیگر صحافیوں کو اخبار چلانے کے لیے حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ لوگ بھارت میں صحافت کی بجائے دوسرے پروفیشنز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بھارت میں پارسیوں کی یہ کمیونٹی اب بہت چھوٹی رہ گئی ہے۔ ان کا بنیادی تعلق ایران سے تھا۔ بھارت کے بہت بڑے کاروباری خاندان ٹاٹا کا بھی اسی کمیونٹی سے تعلق ہے۔ اسی طرح کنڈکٹر زوبن مہتا اور اس طرح کے بہت سارے نام بھی اس کمیونٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ اس کمیونٹی کی بڑی تعداد ممبئی میں رہتی ہے۔ ممبئی کے علاوہ بنگلور اور پاکستان کے شہر کراچی میں بھی پارسی موجود ہیں۔ پارسیوں کی کچھ تعداد امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں بھی ہے۔
پچھلی ایک صدی کے دوران ان کی تعداد میں بہت بڑی کمی آئی ہے۔ اس پارسی جریدے کا آخری شمارہ 21 اکتوبر کو سامنے آئے گا اور اس کے بعد اس کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔
جہانگیر پٹیل نے اس سلسلے میں کہا کہ ہمارے پارسیوں کے آتش کدوں کی تعداد ممبئی میں اس وقت 50 کے قریب ہے لیکن ان میں سے بہت کم سرگرم ہیں۔ ہم نے اس پر لکھا ہے کہ ان آتش کدوں کو کس طرح بحال رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کے لیے آگ جلائے رکھنے کے آلات کی فراہمی اور پرزوں کی فراہمی اب آسان نہیں رہی ہے۔ اس لیے ان میں سے بہت سے آتش کدے اب بند ہوگئے ہیں۔
اب ان آتش کدوں پر لگے کلاک بھی ورکنگ میں نہیں رہے ہیں۔ اب وہ محض آتش کدوں پر لٹک کر رہ گئے ہیں۔ اب شاید صرف ایک شخص رہ گیا ہے جو ان کو ٹھیک کر سکتا ہے لیکن وہ شخص بھی اس قدر بوڑھا ہے کہ اس کے لیے آنا آسان نہیں ہے۔ اب آتش کدوں میں شاید ہی کوئی عبادت کے لیے آتا ہے اور شاید ہی کوئی اب ان کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے والا ہو۔
ماہ اگست میں جب اس جریدے نے اپنے اداریے بند کیے تو اس کے قارئین کی طرف سے تبصرے آنے لگے کہ یہ بندش اب شاید اس کے لیے بڑھ جائے گی۔
اس وقت مبصرین نے لکھا تھا آپ کا پیشہ وارانہ حوصلہ اور آپ کے تحمل نے نہ صرف یہ کہ کمیونٹی جرنلزم کے معیار کو بلند کیا بلکہ بے شمار پارسیوں کی آواز بن گیا۔
مبصرین کی طرف سے ایک خط میں 'پارسیانہ' کے ایڈیٹر کو لکھا گیا آپ ہمارا فخر ہیں۔ آپ ہمارے ساتھی ہیں۔ آپ کی کمی ہمیں بہت زیادہ محسوس ہوگی۔