غزہ کا منظر
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے پیر کی شب اعلان کیا کہ اسرائیل کو ایک اور قیدی کی لاش موصول ہوئی ہے جو ریڈ کراس کی ٹیموں کے ذریعے منتقل کی گئی۔
اس طرح فریقین کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد سے حماس اب تک 20 اسرائیلی قیدیوں کو زندہ حالت میں اور 28 مردہ قیدیوں میں سے 17 کی لاشوں کو حوالے کر چکی ہے۔ ان میں زیادہ تر اسرائیلی ہیں، تاہم تل ابیب پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ موصول ہونے والی ایک لاش اس کے کسی بھی قیدی سے مطابقت نہیں رکھتی اور وہ 16 لاشوں کی وصولی کی تصدیق کرتا ہے۔
اسی دوران اسرائیلی حکام نے حماس پر تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنظیم کو کم از کم آٹھ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کا پتا ہے۔
دوسری جانب حماس نے وضاحت کی ہے کہ وہ لاشوں کے مقامات تک رسائی کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے مگر یہ عمل بے حد پیچیدہ ہے۔ بالخصوص غزہ کی پٹی میں دو سالہ جنگ کے بعد ملبے کے انبار اور اُن ارکان کی ہلاکت کے باعث جو ان قیدیوں کے ذمے دار تھے۔
پانچ اقدامات
اسرائیلی سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر حماس نے بقیہ لاشیں حوالے نہ کیں تو اسرائیل کے سامنے پانچ متبادل راستے ہیں : زمینی کنٹرول میں توسیع اور فوجی کارروائی میں شدت، جنگ بندی کے معاہدے کا خاتمہ، براہِ راست آپریشنوں کے ذریعے لاشوں کی برآمدگی، سفارتی دباؤ میں اضافہ اور مزید بین الاقوامی رابطے۔
یہ تفصیلات اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کی رپورٹ میں بتائی گئیں۔
اسی ضمن میں اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے بتایا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے پر غور کر رہا ہے تاکہ اسے حماس کے خلاف تعزیری اقدام کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ تاہم اسرائیل اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دی گئی مہلت کے اختتام کے بعد واشنگٹن کے گرین سگنل کا انتظار کر رہا ہے۔
12 لاشیں
نیتن یاہو کے دفتر نے پیر کو بتایا کہ ریڈ کراس نے غزہ سے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیلی فوج کے حوالے کی ہے۔ اگر شناخت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو غزہ میں باقی لاشوں کی تعداد 12 رہ جائے گی۔
ادھر حماس نے کہا کہ جنگی تباہی کے بعد ملبے کے نیچے لاشوں کے مقامات کی نشان دہی میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔
اسی دوران اسرائیل نے پیر کو ایک مصری فنی ٹیم کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے جو ریڈ کراس کے ساتھ مل کر لاشوں کے مقامات کا تعین کرے گی۔ یہ ٹیم بلڈوزر اور ٹرکوں کی مدد سے غزہ کے اُس علاقے میں تلاش کا کام کرے گی جو "یلو لائن" کے پیچھے واقع ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں اسرائیلی افواج ابتدا میں صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت پیچھے ہٹ گئی تھیں۔
یاد ہے کہ غزہ میں قیدیوں کی لاشوں کی برآمدگی اور ان کی حوالگی، ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد میں درپیش اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔