غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ملبے تلے پھنسے لوگوں کو نکالا گیا (29 اکتوبر - رائٹرز)
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے ... 30 فلسطینی جاں بحق
اسرائیلی فوج نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکم پر غزہ پر "شدید" فضائی حملے کیے
غزہ میں شہری دفاع نے بدھ کی صبح بتایا کہ گزشتہ روز غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 30 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔
شہری دفاع کے ترجمان محود بصل کے مطابق امدادی ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے تل الهوّا کے جنوب میں وزارت خزانہ کی سابقہ عمارت کو تباہ کر دیا، جس سے وہاں وسیع پیمانے پر نقصان ہوا۔
شہریوں کے مطابق اس عمارت میں بڑی تعداد میں وہ خاندان رہ رہے تھے جو جنگ کے دوران اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے تھے اور ان کے لیے متبادل پناہ گاہیں دستیاب نہیں تھیں۔
اسی طرح غزہ شہر کے وسط میں البریج کیمپ پر ایک اسرائیلی حملے میں 5 افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ حملے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حکم پر کیے گئے اور ان کا تعلق حماس پر فائر بندی کی خلاف ورزی کے الزامات سے جوڑا جا رہا ہے۔
حماس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ 10 اکتوبر سے جاری فائر بندی اب بھی برقرار ہے، باوجود اس کے کہ کچھ چھوٹی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ یہ حملے حفاظتی مشاورت کے بعد کیے گئے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے حماس پر اپنی فوج پر حملہ کرنے کا الزام لگایا اور اسے خبردار کیا۔
ایک امریکی اہل کار کے مطابق، اسرائیل نے واشنگٹن کو پہلے سے اپنی حملوں کی نیت سے آگاہ کیا تھا اور امریکہ توقع رکھتا ہے کہ حملے محدود ہدف کے لیے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل فائر بندی کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ بات امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے بتائی۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل نے حماس کو سزا دینے کے لیے یلو لائن کے اندر پیش قدمی کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ نیتن یاہو نے منگل کی شام امریکی حکام کے ساتھ حفاظتی مشاورت کے بعد کیا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
امریکی اہل کار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے سینئر حکام نے نیتن یاہو کی ٹیم کو آگاہ کیا کہ حماس نے کوئی سنگین خلاف ورزی نہیں کی اور اسرائیل کو ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے جو فائر بندی کو خطرے میں ڈالے۔