غزہ سے، خان یونس پر اسرائیلی گولہ باری جاری ہے - 30 اکتوبر 2025 - رائٹرز
اسرائیلی فوج نے خان یونس میں متعدد عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا
اسرائیل نے حماس کے قبضے سے دو قیدیوں کی لاشیں وصول کرنے اور ان کی شناخت کی تصدیق کر دی
"العربیہ" اور "الحدث" کے نمائندے کے مطابق جمعہ کی صبح اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں پر شدید بم باری اور توپ خانے سے گولہ باری کی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے مشرقی الشجاعیہ محلے اور شمالی غزہ کی بلدیہ جبالیا کے اطراف میں فلسطینیوں کے گھروں اور بے گھر خیموں پر بھی اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ ڈرون طیارے پورے شہر کی فضا میں مسلسل پرواز کرتے رہے۔
نمائندے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مشرق میں واقع عبسان شہر میں متعدد عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کیا، اور یہ کارروائی ٹینکوں کی شدید گولہ باری کے ساتھ ساتھ جاری رہی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے تصدیق کی کہ اس نے دو قیدیوں، عمیرام کوپر اور ساہر باروخ کی لاشوں کی شناخت مکمل کر لی ہے، جنھیں حماس نے حال ہی میں واپس کیا تھا۔
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ نیشنل میڈیکل انسٹی ٹیوٹ نے شناخت کے بعد مقتولین کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی کہ ان کی باقیات اسرائیل منتقل کر دی گئی ہیں۔
حماس جنگ بندی معاہدے کے تحت 28 میں سے 15 قیدیوں کی لاشیں واپس کر چکی تھی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
پیر کی شب تنظیم نے سولہویں لاش بھی حوالے کرنے کا اعلان کیا، تاہم اسرائیل نے منگل کو کہا کہ ملنے والے کچھ اعضا دراصل اس قیدی اوفیر تسرفاتی کے ہیں، جس کی لاش پہلے ہی برآمد کی جا چکی تھی۔
اس کے بعد اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور نیتن یاہو نے فوج کو "شدید حملے" کرنے کا حکم دیا، جب کہ وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے دھمکی دی کہ حماس کو "بھاری قیمت" چکانی پڑے گی۔
غزہ کے شہری دفاع کے مطابق ان تازہ حملوں میں کم از کم 104 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 46 بچے شامل ہیں۔ یہ 10 اکتوبر سے اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکتوں والی رات قرار دی گئی ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
حماس نے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لاشوں کی تلاش انتہائی مشکل ہے کیونکہ غزہ کی بڑی آبادی ملبے تلے دبی ہوئی ہے اور اس کے پاس تلاش کے لیے درکار آلات نہیں ہیں۔
معاہدے کے تحت حماس نے 20 اسرائیلی قیدیوں کو زندہ واپس کیا، جب کہ اس کے بدلے اسرائیل نے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدی رہا کیے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے غیر معمولی حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر وسیع حملے شروع کیے تھے، جن میں اب تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 68,643 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔