ظہران ممدانی یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہو گئے تھے: رائٹرز
34 سالہ ظہران ممدانی نے تاریخ رقم کر دی، نیو یارک کے پہلے مسلم میئر منتخب
مسلم امیدوار ظہران ممدانی تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوگئے۔ ان کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلوا سے تھا۔
یہ الیکشن کئی حوالوں سے اہم ثابت ہوا، کیونکہ 2001 کے بعد پہلی بار نیویارک کے میئر انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹرز نے حصہ لیا۔ تقریباً 20 لاکھ سے زائد شہریوں نے پولنگ اسٹیشنز پر جا کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
صدر ٹرمپ اور ایلون مسک کی مخالفت کے باوجود ظہران ممدانی نے واضح برتری حاصل کی۔ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود اینڈریو کومو شکست سے دوچار ہوئے۔
نیو یارک میئر کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج (اے پی)
1991 میں یوگنڈا میں پیدا ہونے والے ظہران ممدانی کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی والدہ، فلم ساز میرا نائر (’مون سون ویڈنگ،’مسیسیپی مسالا‘)، آسکر کے لیے نامزد ہو چکی ہیں جبکہ والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ 2018 میں انہیں امریکی شہریت ملی تھی۔ ان کی اہلیہ رما دواجی شامی ایک معروف آرٹسٹ ہیں۔
انہوں نے ایلیٹ لبرل خاندانوں سے تعلق رکھنے والے دوسرے نوجوانوں کے ذریعے ہموار ہونے والے راستے پر چلتے ہوئے ایلیٹ برونکس ہائی سکول آف سائنس میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد مائن میں بوڈوئن کالج، ایک یونیورسٹی جسے ترقی پسند سوچ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
عرف ’ینگ الائچی‘ کے تحت، انہوں نے 2015 میں ریپنگ کی دنیا میں قدم رکھا، جو ہپ ہاپ گروپ ’داس ریسسٹ‘ سے متاثر ہوا، جس میں انڈین نژاد دو اراکین تھے جو برصغیر کے حوالوں اور ٹراپس کے ساتھ ساز بجاتے تھے۔
ممدانی کی پیشہ ورانہ موسیقی کی مسابقتی دنیا میں قدم رکھنے کی کوشش دیر تک نہیں رہی، اداکار سے سیاست دان بننے والے نے خود کو دوسرے درجے کا فنکار قرار دیا۔
انہوں نے سیاست میں اس وقت دلچسپی لی جب انہیں معلوم ہوا کہ ریپر ہمانشو سوری (عرف ہیمس) سٹی کونسل کے امیدوار کی حمایت کر رہا ہے اور اس مہم میں بطور کارکن شامل ہو گئے۔
ممدانی مالی طور پر مشکلات کا شکار مکان کے مالکان کو اپنے گھروں کو کھونے سے بچنے میں مدد کرتے ہوئے فورکلوزر سے بچاؤ کے مشیر بن گئے۔
وہ 2018 میں کوئنز سے ایک قانون ساز کے طور پر منتخب ہوئے تھے، جو بنیادی طور پر غریب اور تارکین وطن کمیونٹیز حمایتی ہیں، جو نیویارک کی ریاستی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں عام شہریوں کے مسائل کو مرکزِ نگاہ بنایا۔ ان کا ایجنڈا سستی رہائش، مفت پبلک ٹرانسپورٹ، یونیورسل چائلڈ کیئر اور متوسط طبقے کے لیے سہولتوں کے فروغ پر مبنی تھا۔
انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد گھروں اور دفاتر کے کرائے منجمد کریں گے، شہر میں ٹرانسپورٹ مفت ہوگی اور چائلڈ کیئر کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ عوامی رابطہ مہم کے دوران وہ نیویارک کے شہریوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ظہران ممدانی فلسطینیوں کی حمایت میں اپنی کھلی اور دوٹوک آواز کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر عالمی عدالت انصاف کو مطلوب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئیں تو وہ ان کی گرفتاری یقینی بنائیں گے۔