قازقستان [آئسٹاک]
قازقستان ... دنیا میں سب سے بڑی "لینڈ لاکڈ" ریاست کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
قازقستان کے اعلان کے مطابق وہ ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اختیار کرے گا۔ یہ ایک غیر متوقع قدم ہے جس نے بین الاقوامی سیاست میں وسطی ایشیائی ممالک کے کردار کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے، جہاں روسی اثر، چینی توسیع اور امریکی واپسی ایک ساتھ موجود ہیں۔
کثیر الجہتی توازن
قازق حکومت نے جمعرات کی شب ایک سرکاری بیان میں کہا کہ ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت "باہمی احترام اور مکالمے پر مبنی خارجہ پالیسی کے تسلسل" کی نمائندگی کرتی ہے۔
قازقستان نے 1991 میں آزادی کے بعد سے ایک ایسی خارجہ پالیسی اپنائی ہوئی ہے جسے "کثیر الجہتی توازن" کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت وہ بغیر کسی ایک محور کے ساتھ مکمل وابستگی کے ... تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
قازقستان [آءسٹاک]
ماہرین کے مطابق یہ اقدام قازقستان کی جانب سے اپنے خود مختار سفارتی فیصلے کی تصدیق کے لیے اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر ایک ایسے خطے میں جہاں روسی، چینی اور امریکی اثر و رسوخ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد وسطی ایشیائی ممالک نے اپنی اقتصادی اور سیاسی اتحادی سمتوں میں تنوع پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
تزویراتی محلِ وقوع
قازقستان دنیا کی سب سے بڑی لینڈ لاکڈ (یعنی بغیر سمندر تک براہِ راست رسائی کے) ریاست ہے جس کا رقبہ 27 لاکھ مربع کلو میٹر ہے۔ یہ ملک جغرافیائی طور پر یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک قدرتی دروازہ سمجھا جاتا ہے۔
قازقستان کی روس کے ساتھ دنیا کی سب سے طویل زمینی سرحد لگتی ہے، اور ماسکو کے لیے یہ یوریشیائی اقتصادی اتحاد اور اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم میں ایک سٹریٹیجک شراکت دار ہے۔
دوسری طرف، چین قازقستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جو "بیلٹ اینڈ روڈ" منصوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
تاہم ان وسیع اقتصادی تعلقات کے باوجود اندرونِ ملک چینی اثر کے بڑھنے پر خدشات پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے قازقستانی قیادت نے مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی ایک طاقت پر انحصار نہ رہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
"ابراہیمی معاہدے" قازقستان کے لیے کتنے اہم ہیں؟
قازقستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور انیس سو نوّے کی دہائی سے اسرائیل کے ساتھ با ضابطہ سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔ اس کی جانب سے 2020 میں امریکی سرپرستی میں شروع ہونے والے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت ایک بڑی پیش رفت ہے۔
یہ شمولیت اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے نئے مواقع بھی کھول سکتی ہے، خصوصاً قابلِ تجدید توانائی، جدید زراعت اور پانی کی کشید جیسے اہم شعبوں میں۔
قازقستان ان شعبوں میں ترقی کے ذریعے اپنی معیشت کو متنوع بنانا اور تیل و گیس کی برآمدات پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات "ٹائمز آف اسرائیل" اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔
ماہرین کی آراء
وسطی ایشیائی امور کے ماہر نزار کاریبایف نے فرانسیسی چینل "فرانس 24" سے گفتگو میں کہا کہ قازقستان کا یہ فیصلہ "دہرا پیغام" رکھتا ہے ... "مغرب کے لیے یہ پیغام ہے کہ آستانہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے، اور روس و چین کے لیے یہ اعلان ہے کہ وہ ایک آزاد فیصلہ ساز ریاست ہے جو اپنا راستہ خود متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔"
جیو پولیٹیکل نقطہ نظر سے اس اقدام کو امریکی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جو وسطی ایشیا میں کھویا ہوا اثر دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ جس نے 2021 میں افغانستان سے اپنی افواج واپس بلائی تھیں، اب سفارت کاری اور معیشت کے راستے سے دوبارہ خطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
قازقستان کا یہ فیصلہ روسی اثر کے بتدریج کم ہونے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
قازقستان اور چین کے صدور (اے ایف پی)
روس نے البتہ ایک احتیاط آمیز موقف اپنایا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے نے روسی ایجنسی "تاس" سے گفتگو میں کہا "ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر ترتیب دینے کا حق حاصل ہے، اور قازقستان یوریشیائی اقتصادی اتحاد کا ایک بنیادی شراکت دار رہے گا۔"
دوسری جانب چین نے با ضابطہ خاموشی اختیار کی، مگر اس کے سرکاری اخبار "گلوبل ٹائمز" نے ایک مضمون میں خبردار کیا کہ "ان معاہدوں کو وسطی ایشیا میں سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جائے"۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قازقستان کی یہ شمولیت بظاہر علامتی نوعیت رکھتی ہے، لیکن اس کے سیاسی اثرات بہت اہم ہیں۔
یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ قازقستان خطے میں ایک زیادہ خود مختار کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
ساتھ ہی یہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ وسیع تر تعاون کے دروازے کھولتا ہے، اگرچہ اس کا مطلب روس یا چین سے قطع تعلق نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو "امریکی سفارت کاری کی کامیابی اور نئی راہوں کے قیام کی علامت" قرار دیا ہے۔ دوسری جانب آستانہ اسے اپنی سیاسی و اقتصادی خود مختاری کو مضبوط بنانے کے عمل کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔