ہسپتال کا عملہ پنکج ساہنی کی لاش کو، جو تاریخی لال قلعہ کے قریب ایک دھماکے میں ہلاک ہو گیا تھا، دہلی، بھارت میں، 11 نومبر 2025 کو ہسپتال کے مردہ خانے کے باہر گاڑی میں لاد رہا ہے REUTERS/عدنان عابدی

مودی کا دہلی دھماکے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ دہلی میں ہونے والے کار دھماکے کے پیچھے ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائیٹزز" کے مطابق دھماکہ پیر کی شام دہلی کے تاریخی لال قلعے کے قریب ہوا جس میں کم از کم آٹھ افراد کی اموات اور 20 زخمی ہوئے، یہ تین کروڑ سے زیادہ آبادی والے انڈین دارالحکومت میں 2011 کے بعد پہلا بڑا دھماکہ ہے۔

مودی بھوٹان میں

بھوٹان کے دارالحکومت تھیمفو میں ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا نریندر مودی نے کہا: ’ہماری ایجنسیاں اس سازش کی تہہ تک پہنچیں گی اور سازش کرنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ سب کے لیے بہت افسوسناک ہے اور حکومت ہر ممکن اقدام کر رہی ہے تاکہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف قانون

ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجہ بانتیا نے بتایا کہ پولیس نے دھماکے کی تحقیقات اینٹی ٹیررازم قانون، دھماکہ خیز مواد کے قانون اور دیگر فوجداری قوانین کے تحت شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ابھی اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔‘

انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی منگل کو کہا کہ واقعے کی تحقیقات تیز اور مکمل ہو رہی ہیں اور نتائج جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

واقعے میں زخمیوں کے رشتہ دار لوک نائیک ہسپتال کے باہر جمع ہوئے تاکہ اپنے پیاروں کی شناخت کر سکیں۔

منگل کو دھماکے کے مقام کے قریب واقع مارکیٹ اور سیاحتی علاقوں میں اکثر دکانیں بند رہیں اور فارنزک ماہرین نے جائے وقوع کی تفتیش جاری رکھی۔

دہلی میٹرو نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ریڈ فورٹ سٹیشن بند کر دیا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک سست رفتار گاڑی ٹریفک سگنل پر رکی تھی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں