بھارتی تیجس لڑاکا طیارے کے حادثے سے
گذشتہ روز دبئی ایئر شو میں بھارتی جنگی طیارہ تیجس تماشائیوں کے سامنے آگ بھرے گولےمیں تبدیل ہو کر گر کر تباہ ہوگیا۔ اس افسوسناک سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیو کلپس گردش کرنے لگے جنہیں پائلٹ ناماش سیال کا آخری منظر قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ طیارے کی اڑان سے کچھ ہی لمحے قبل ریکارڈ کیے گئے تھے۔ پائلٹ اس حادثے میں جان کی بازی ہار گیا۔
حادثے کی ابتدائی ویڈیوز میں رن وے کے پیچھے سے اٹھتے ہوئے گھنے سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے جو ایک فینس سے گھرے علاقے میں بلند ہو رہے تھے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق طیارہ آٹھ یا نو منٹ سے زیادہ فضا میں نہ رہ سکا۔ اس نے ایک یا دو چکر لگائے اور پھر اچانک نیچے آ کر گر کر تباہ ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ "زمین سے ٹکرانے پر میں نے تین الگ الگ آگ کے گولے دیکھے۔ تمام لوگ کھڑے ہو گئے اور تقریباً تیس سیکنڈ بعد ایمرجنسی گاڑیاں موقع پر دوڑتی ہوئی پہنچ گئیں"۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی فضائیہ نے بتایا کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے فنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
بھارتی تیجس طیارے کا دوسرا معروف حادثہ
یہ سانحہ اس بھارتی جنگی طیارے کا دوسرا معروف حادثہ ہے جسے بھارت کی سرکاری کمپنی ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ نے تیار کیا ہے اور جس میں جنرل الیکٹرک کے انجن نصب ہیں۔ پہلا حادثہ سنہ 2024ء میں بھارت میں ایک فضائی مشق کے دوران پیش آیا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تیجس طیارہ پہلی بار سنہ 2001ء میں تیار کیا گیا تھا اور اس کا ڈیزائن اس سے بھی دو دہائیاں قبل کی تحقیق پر مبنی ہے۔ اسے ہلکے لڑاکا طیارے کے طور پر تیار کیا گیا تاکہ بھارتی فضائیہ کے میگ 21 بیڑے کی جگہ لے سکے۔
بھارتی فضائیہ آئندہ برسوں میں تقریباً 220 تیجس طیاروں کے بیڑے کو آپریشنل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس میں ایم کے-1اے ماڈل کی جدید اقسام بھی شامل ہوں گی جن کی تکمیل ہندوستان ایئروناٹکس کے زیرالتوا آرڈرز پورے ہونے کے بعد متوقع ہے۔