زیلنسکی کی کیف میں امریکی وفد سے ملاقات سے (اے ایف پی)
یوکرین کی سرحدوں کوجبری تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے: یورپی رہنماؤں کا ٹرمپ کےمنصوبے پرردعمل
گروپ آف ٹونٹی (جی 20) کے سربراہی اجلاس میں متعدد یورپی رہنماؤں نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کا خیرمقدم کیا۔ تاہم انہوں نے ہفتہ کو ایک بیان میں زور دیا کہ مجوزہ منصوبے پر مزید کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی منصوبے کا مسودہ جو 28 نکات پر مشتمل ہے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔
فوج پر پابندیاں
یورپی رہنماؤں نے امریکی مسودے میں یوکرینی فوج پر مجوزہ پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا موقف واضح ہے کہ یوکرین کی سرحدوں کو طاقت کے زور پر تبدیل کرنے کو مسترد کیا جانا چاہیے۔ یہ مشترکہ یورپی موقف اس وقت آیا ہے جب واشنگٹن اگلے ہفتے کیف پر منصوبے کا جواب دینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تکلیف دہ رعایتیں
امریکی تجویز میں یہ بات شامل تھی کہ کیف مشرقی یوکرین میں دونباس کے علاقے کے علاوہ کریمیا سے بھی دستبردار ہو جائے اور جنوبی علاقوں خیرسون اور زاپوریجیا ، جنہیں ماسکو نے غیر قانونی طور پر ضم کرنے کا اعلان کیا تھا، میں رابطہ لائنوں کو منجمد کر دیا جائے۔ روسی افواج خارکیف کے دیگر علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔ اس طرح یوکرین تقریباً 2300 مربع کلومیٹر کا علاقہ روس کے حوالے کرے گا جو لگزمبرگ کے رقبے کے برابر ہے۔ یوکرین کو ڈونیٹسک کے علاقے میں تقریباً 5000 مربع کلومیٹر سے دستبردار ہونا پڑے گا تاکہ اسے بفر زون بنایا جائے اور لوہانسک میں مزید 45 مربع کلومیٹر سے دستبردار ہونا ہوگا۔
اس کے بدلے میں ماسکو اپنی افواج کو خارکیف (2000 مربع کلومیٹر)، دنیپروپیٹرووسک (450 مربع کلومیٹر)، سومی (300 مربع کلومیٹر) اور چرنیہیو (20 مربع کلومیٹر) کے کچھ حصوں سے واپس لے جائے گا۔ اس کے علاوہ منصوبے میں یہ بھی شامل تھا کہ کیف نیٹو میں شامل ہونے کی کوشش ترک کر دے اور صرف یورپی یونین میں شمولیت پر اکتفا کرے۔ وہ اپنی سرزمین پر بین الاقوامی افواج کی تعیناتی پر رضامند نہ ہو۔ اس کے علاوہ 100 دنوں کے اندر یوکرین میں انتخابات کرائے جائیں۔ تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کیف کو سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسی تناظر میں ایک امریکی عہدیدار نے وضاحت کی ہے کہ مجوزہ امن معاہدے میں واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے نیٹو کی طرح کی سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کا عہد شامل ہے جس میں یوکرین پر مستقبل کے کسی بھی حملے کا جواب دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین کی تعمیر نو کے لیے روسی منجمد اثاثوں میں سے 100 بلین ڈالر مختص کیے جائیں گے۔
واضح رہے یوکرین کے صدر زیلنسکی نے گزشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ملک کے وقار کے ساتھ غداری نہیں کر سکتے تاہم انہوں نے ساتھ ہی تصدیق کی کہ کیف کو ایک مشکل انتخاب کا سامنا ہے۔ زیلنسکی نے ہفتہ کو امریکی تجویز پر بات چیت کے لیے باضابطہ طور پر ایک وفد بھی تشکیل دیا ہے۔