سوڈان کے آرمی چیف، عبدالفتاح البرہان، پورٹ سوڈان میں سوڈان کے نئے وزیر اعظم کے طور پر کامل ادریس کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہیں - رائٹرز، 31 مئی، 2025
یو اے ای کا البرہان پر سوڈان میں قیام امن کی کوششیں مسترد کرنے کا الزام
ابوظہبی تنازع کے دونوں فریقوں کے رویے پر تشویش میں مبتلا
متحدہ عرب امارات نے سوڈان کی خودمختاری کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان پر سوڈان کے لیے امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے امن کی کوششوں کو مسترد کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔ بین الاقوامی تعاون کی وزیر مملکت ریم الہاشمی نے کہا ہے جنرل البرہان ایک بار پھر امن قائم کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کر رہے ہیں۔ سوڈان کے لیے امریکی امن منصوبے کو مسترد کرنے اور جنگ بندی کو قبول کرنے سے بار بار انکار کے ذریعے وہ مسلسل ایک رکاوٹ ڈالنے والا رویہ اپنائے ہوئے ہیں جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ اس خانہ جنگی میں سوڈان کے عوام ہی سب سے بڑا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
عبد الفتاح البرہان پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ الزام ان کی جانب سے امریکی جنگ بندی کی تجویز پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے بعض حل سوڈان کی تقسیم کی واضح دعوت ہیں۔ انہوں نے امریکی ایلچی مسعد بولس کی دستاویز کو "پیش کی گئی بدترین دستاویز" قرار دیا تھا کیونکہ اس میں مسلح افواج کے وجود کو ختم کرنے، تمام سکیورٹی اداروں کو تحلیل کرنے اور باغی ملیشیا ( ریپیڈ سپورٹ فورسز) کو ان کے علاقوں میں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
مزید برآں متحدہ عرب امارات کی خاتون وزیر ریم الہاشمی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ سوڈان کی موجودہ صورتحال کو جدید تاریخ کی بدترین انسانی المیوں میں سے ایک قرار دے رہی ہے جہاں امداد کی رسائی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور جان بوجھ کر شہریوں کو بھوکا رکھا جا رہا ہے۔ ابوظبی تنازع کے دونوں فریقوں کے رویے پر گہری تشویش سے نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ ان کی فوجی کشیدگی اور انسانی امداد کی رسائی میں بار بار رکاوٹ ڈالنا سوڈان کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ اماراتی عہدیدار نے اس خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
متحدہ عرب امارات نے سوڈان کو انتہا پسندی اور ٹوٹ پھوٹ کی طرف جانے سے روکنے اور انسانی تباہی کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کا بھی خیرمقدم کیا۔ اماراتی خاتون وزیر نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ شہریوں کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔ ہمیں ایک قابل اعتماد راستہ دوبارہ قائم کرنا چاہیے جو ایک محفوظ، متحد اور قابل عمل سوڈان کے قیام کی طرف لے جائے۔