ایرانی دفاعی ہفتہ کے دوران تہران کی ایک سڑک پر خامنہ ای کی تصویر والے بینر کے ساتھ ایک ایرانی میزائل سسٹم آویزاں ہے - رائٹرز، 25 ستمبر 2025
ایران حوثیوں،حزب اللہ اورغرب اردن کو دوبارہ اسلحہ دے رہا ہے:اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار
ایرانی حکام کئی بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے گذشتہ جون میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کو ناکام بنا دیا تھا اور بارہ روز جاری رہنے والی اس جنگ میں "فتح" حاصل کی۔ تاہم ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ تہران "اس جنگ کے بعد بگڑتی ہوئی اپنی حیثیت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔
اتوار کے روز اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے گفتگو میں اس اہلکار نے خبردار کیا کہ "ایرانی نئی اسرائیلی کارروائی کے خدشے کے باعث خود کو دوبارہ مسلح کر رہے ہیں اور حوثیوں اور حزب اللہ کو بھی اسلحہ فراہم کر رہے ہیں"۔
اس نے دعویٰ کیا کہ "ایران نے غرب اردن میں اسلحہ اسمگلنگ کی رفتار بڑھا دی ہے"۔
تہران اور حوثی گروہ
اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کے مطابق "ایران یمن میں حوثیوں کی عسکری صلاحیتیں بحال کرنے میں مصروف ہے اور غرب اردن تک اسلحہ پہنچا کر اسرائیل کے اندر کارروائیاں کرانے کا ارادہ رکھتا ہے"۔
انہوں نے خبردار کیا کہ "تہران شام میں سرگرم کچھ گروہوں کو بھی ممکنہ اسرائیلی تصادم کی تیاری کے لیے اسلحہ فراہم کر رہا ہے"۔
لبنان کے معاملے پر اہلکار نے کہا کہ ایران سمجھتا ہے کہ اکتیس دسمبر کے بعد اسرائیل کو ہر صورت کارروائی کرنا پڑے گی کیونکہ اس تاریخ تک حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس وقت ایک ایسے اسلحہ جاتی مقابلے میں الجھا ہوا ہے جس نے سکیورٹی اداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ جون کے آخر میں اسرائیل نے اچانک ایران کے اندر متعدد فوجی اور ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران کئی ایرانی عسکری کمانڈروں اور جوہری ماہرین کو بھی ہدف بنایا گیا جسے بڑے سکیورٹی اور انٹیلی جنس شگاف قرار دیا گیا۔
اس کے بعد سے مختلف ایرانی حکام یہ کہتے آئے ہیں کہ ایران نے اپنی عسکری صلاحیتیں پہلے سے زیادہ مضبوط کر لی ہیں۔