برطانوی شہری ہنرمند پیشوں کی طرف رجوع کررہے ہیں… کیونکہ مصنوعی ذہانت ان کی جگہ نہیں لےسکتی
برطانیہ میں نصف بالغ افراد اپنی ملازمتوں پر مصنوعی ذہانت کے اثرات سے پریشان ہیں
تیزی سے بدلتے ہوئے روزگار کی منڈی میں جہاں مصنوعی ذہانت مختلف شعبوں میں انسانی ملازمتوں کی جگہ لینے لگی ہے، طلبہ اور نوجوان اب ایسی پیشوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جن میں ہاتھوں کی مہارت، عملی تجربہ اور انسانی مداخلت ناگزیر ہو۔
اسی رجحان کے تحت 18 سالہ طالبہ مارینا یاروشینکو بھی ایک ایسی فنی ہنر کی طرف آئی ہیں، جس کا مستقبل زیادہ محفوظ سمجھا جا رہا ہے۔
مارینا جو یوکرین سے تعلق رکھتی ہیں اور اس وقت لندن کی سٹی آف ویسٹ منسٹر کالج میں تربیت حاصل کر رہی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس پر مصنوعی ذہانت قابو نہیں پا سکتی۔ان کے مطابق AI جتنی بھی ترقی کر لے، عملی اور جسمانی محنت والے کام، جیسے پلمبنگ، برقی کاریگری، لکڑی کا کام یا ویلڈنگ، انسانی ہاتھوں کے بغیر ممکن نہیں۔
برطانیہ میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق دفتری اور انتظامی نوعیت کی ملازمتیں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، کیونکہ AI اور آٹومیشن ان کاموں کو باآسانی سنبھال سکتی ہے۔
سروے سے معلوم ہوا کہ ہر چھ میں سے ایک آجر توقع کرتا ہے کہ اگلے 12 مہینوں میں AI استعمال کرنے کی وجہ سے ملازمین کی تعداد میں کمی آئے گی۔
مارینا کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI ایک مفید ٹول ہے، مگر یہ انسانی محنت کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ان کے مطابق:ہم یقیناً مصنوعی ذہانت استعمال کریں گے، مگر بہت سے کام ایسے ہیں جو صرف انسان ہی انجام دے سکتا ہے۔ AI نہ حقیقی انجینئرنگ کر سکتا ہے، نہ پلمبنگ، نہ برقی کام۔یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، انسان ایسی مہارتوں کی طرف لوٹ رہے ہیں جن کی بنیاد عملی تجربہ، تخلیق اور جسمانی صلاحیت پر ہو،وہ شعبے جہاں روبوٹ یا الگورتھم ابھی تک انسانی فطری مہارت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
لندن کی سٹی آف ویسٹ منسٹر کالج—جو یونیٹیڈ کالجز گروپ کا حصہ ہے اور عملی و فنی تربیت فراہم کرنے کے لیے معروف ہے،میں گزشتہ تین برسوں کے دوران انجینئرنگ، تعمیرات اور اربن ڈویلپمنٹ سے متعلق کورسز میں داخلے کی شرح میں 6 اعشاریہ 9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کالج کے چیف ایگزیکٹو اسٹیفن ڈیوس کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ دو عوامل ہیں:اول مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی جس نے بہت سی سفید کالر نوکریوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور دوم یونیورسٹی تعلیم کے بھاری اخراجات، جو ہزاروں پاؤنڈ تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان یونیورسٹی جانے کے بجائے عملی ہنر سیکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔اسی رجحان کی تصدیق اگست میں کیے گئے ایک سروے سے بھی ہوتی ہے، جو ٹریڈ یونین کانگریس (TUC) نے 2600 افراد سے کیا۔
سروے کے مطابق برطانیہ کے نصف بالغ افراد اپنی نوکریوں پر مصنوعی ذہانت کے اثرات کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔ 25 سے 35 سال کی عمر کے نوجوان سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ یہی عمر گروہ روزگار کے میدان میں سب سے زیادہ متحرک ہوتا ہے۔
بوکی کلائن تیسلنک جو کنگز کالج لندن میں مصنوعی ذہانت کے محقق اور لیکچرار ہیں،ان کا کہنا ہے:نوجوانوں میں ایک حقیقی بے چینی پائی جاتی ہے کہ ملازمتیں زیادہ تیزی سے آٹومیشن کی طرف جا رہی ہیں۔
تیسلنک کی ایک تحقیق جو اکتوبر میں شائع ہوئی،اس سے پتا چلا کہ AI کے باعث ہونے والی نوکریوں کی کٹوتیاں خاص طور پر انٹری لیول جابز کو متاثر کرتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ کیریئر کے آغاز میں نوجوانوں کے لیے قدم جمانا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔یہ تمام اعداد و شمار اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت ترقی کر رہی ہے، ویسے ویسے نوجوان نسل اپنے مستقبل کے لیے زیادہ عملی، محفوظ اور دیرپا پیشوں کی تلاش میں فنی مہارتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔