ٹرمپ اور نیتن یاہو

ٹرمپ اور یاہو کا غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت پر زور

دونوں رہنماؤں نے فون پر امن معاہدوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر تبادلہ خیال کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنی بات چیت میں حماس کی تحریک کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنے کی اہمیت اور ان پر عمل کرنے پر زور دیا۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ دونوں فریقوں نے امن معاہدوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے نیتن یاہو کو جلد ہی وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ یہ بیان اس وقت آیا جب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے زور دیا ہے کہ ہتھیاروں کے معاملے کو ایک قومی مکالمے اور اندرونی مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دو دن قبل ’’ العربیہ/الحدث ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ہتھیاروں کے معاملے کو پہلے قومی مکالمے اور اندرونی مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور فلسطینی صورتحال کے مجموعی پہلوؤں سے متعلق سیاسی نقطہ نظر تک پہنچنا چاہیے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ اندرونی اتفاق رائے سے متعلق ہے اور ایک حقیقی سیاسی عمل سے متعلق ہے جو ایک آزاد فلسطینی ریاست اور اس کے دارالحکومت القدس کی طرف لے جائے۔ اسرائیلی منطق سے دور رہتے ہوئے غیر مسلح کرنے اور دیگر اصطلاحات کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی تحریک کے حوالے سے پہلے مرحلے میں درکار ہر چیز پر مکمل عمل کیا ہے تاکہ دوسرے مرحلے میں منتقلی کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی میں اسرائیل اب بھی رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

ٹرمپ کا منصوبہ

یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ میں جنگ بندی کا منصوبہ اکتوبر 2025 کی کی دسویں تاریخ کو نافذ ہوا تھا۔ اس میں پٹی کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی کمیٹی کی نگرانی میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کا انتظام سونپنے کا کہا گیا تھا۔ غزہ میں حماس کے سربراہ خلیل الحیہ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ ہتھیاروں کا معاملہ زیر بحث ہے۔ اسی وقت انہوں نے زور دیا تھا کہ یہ مسئلہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک حماس کی تحریک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے ہتھیاروں کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا یہ واضح ہے کہ تحریک حماس غزہ کی حکمرانی سے دستبردار ہونے کو تیار ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں