رفح کراسنگ

غزہ کے باشندوں کے مصر جانے کے لیے رفح کراسنگ چند دنوں میں کھولی جائے گی : اسرائیل

غزہ شہر کے جنوب مشرقی علاقے زیتون میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 1 فلسطینی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکومت کے ہم آہنگی یونٹ (کوغات) نے اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ اگلے چند دنوں میں کھولی جائے گی تاکہ صرف غزہ کے باشندے مصر جا سکیں، یہ قدم علاقے میں نافذ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔

یونٹ نے آج بدھ کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر بیان میں کہا "جنگ بندی کے معاہدے اور سیاسی سطح کی ہدایت کے مطابق، رفح کراسنگ اگلے چند دنوں میں صرف غزہ کے باشندوں کے مصر جانے کے لیے کھولی جائے گی"۔ یونٹ کے مطابق یہ اقدام قاہرہ اور یورپی یونین کے مشن کے ساتھ ہم آہنگی میں کیا جائے گا۔ یورپی یونین کراسنگ کی نگرانی میں حصہ لیتی ہے۔

کوغات یونٹ اسرائیلی فوجی ادارے کے طور پر غزہ میں امداد کی منتقلی کا ذمہ دار ہے۔

دوسری جانب آج غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع علاقے الزيتون میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہری جاں بحق ہو گیا۔

فلسطینی نیوز ایجنسی (صفا) کے مطابق بدھ کی صبح اسرائیلی فوج نے مشرقی علاقے پر فضائی حملے کیے جبکہ ٹینکوں سے شدید فائرنگ بھی کی گئی۔

ایجنسی نے مزید بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس میں اسرائیلی توپ خانے نے گولہ باری کی جب کہ ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں نے فائرنگ کی۔ ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے مشرقی غزہ کے علاقے التفاح میں فضائی حملوں کے دوران رہائشی عمارتیں منہدم کر دیں۔

منگل کو بھی غزہ کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں سات فلسطینی جاں بحق ہو گئے تھے۔

دوسری جانب اسرائیل نے آج بدھ کے روز کہا کہ غزہ سے واپس آنے والی باقیات (ہڈیاں) کسی بھی باقی ماندہ قیدی کے نہیں ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ ہڈیوں کا فرانزک جائزہ بتاتا ہے کہ حماس کی جانب سے منگل کو فراہم کیے گئے اعضاء کسی بھی آخری باقی قیدی کے نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق حماس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 48 قیدیوں کو واپس کرے گی جن میں 20 زندہ ہیں۔ غزہ میں اب بھی 28 میں سے دو قیدیوں کی لاشیں باقی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں