تباہ حال غزہ کا مںظر
رفح : جھڑپ میں چار اسرائیلی فوجی زخمی، نیتن یاہو کا حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
اسرائیلی فوج کے مطابق مسلح عناصر رفح کے مشرقی علاقے میں اس کی کارروائی کے دوران مسلح افراد ایک سرنگ سے نکل آئے
اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں مسلح فلسطینی عناصر کے ساتھ جھڑپ کے دوران اس کے چار فوجی زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق رفح کے مشرق میں ایک کارروائی کے دوران اس کے فوجیوں کا سامنا متعدد مسلح افراد سے ہوا جو ایک سرنگ سے باہر نکلے تھے۔
فوج نے اپنے بیان میں کہا "جھڑپ کے دوران ایک فوجی شدید زخمی ہوا، جبکہ دو فوجی اور ایک نان کمیشنڈ افسر درمیانی درجے کے زخموں کا شکار ہوئے"۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے بتایا کہ فوج نے رفح میں سرنگ سے نکل کر اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے والے کم از کم دو مسلح افراد کو ہلاک کر دیا، جبکہ دیگر کئی مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں حماس تنظیم پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل "اپنی اس پالیسی کے مطابق جواب دے گا جو فوجیوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے سخت ہے"۔
غزہ میں ایک سیکیورٹی ذریعے نے فرانسیسی خبر ایجنسی کو بتایا "آج شام مشرقی رفح میں اسرائیلی مشینی گاڑیوں کی جانب سے انتہائی شدید گولہ باری کی گئی… اسی دوران لڑاکا طیاروں نے بہت نیچی پرواز کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی، علاقے میں ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر بھی اترا"۔
فوج نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ اس نے پچھلے ہفتے کے دوران رفح کے قریب ان سرنگوں کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں میں 40 سے زیادہ مسلح افراد کو ہلاک کیا ہے، جہاں حماس تنظیم کے متعدد جنگجو ان علاقوں کے نیچے موجود سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں جن پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔
گذشتہ ہفتے فرانسیسی خبر ایجنسی کو کئی ذرائع نے بتایا تھا کہ جنوبی غزہ میں سرنگوں کے جال میں موجود ان مسلح افراد کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔
جمعرات کو غزہ میں حماس تنظیم کے ایک سینئر رکن نے کہا کہ تنظیم کے اندازے کے مطابق سرنگوں میں موجود جنگجوؤں کی تعداد 60 سے 80 کے درمیان ہے۔