ںیویارک پوسٹ

قیدیوں کی رہائی کے لیے ایران کا تھائی لینڈ پر اپنے کسان اسرائیل سے واپس بلانے پر زو: رپورٹ

تہران نے اسرائیل کے خلاف اقتصادی دباؤ کے طور پر تھائی مزدوروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے تھائی لینڈ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے لاکھوں زرعی مزدوروں کو اسرائیل سے واپس بلائے، جس کے بدلے میں حماس کی جانب سے سات اکتوبر کے حملے میں قید کیے گئے تھائی شہریوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی جا سکے۔ اس امر کا اظہار ایک میڈیا رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق تہران نے یہ تجویز اس حملے کے بعد کے ہفتوں میں پیش کی، جس میں 39 تھائی ہلاک اور 31 اغوا کیے گئے تھے، جن میں سودتھیساک رِنثالاک بھی شامل تھے، جس کے نعش تین دسمبر کو اسرائیلی حکام کے سپرد کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق تین تھائی مزدور یا تو حملے کے دن ہلاک ہوئے یا حماس کے قبضے میں رہنے کے دوران جان سے گئے۔ اس وقت اسرائیل میں تقریباً 40 ہزار تھائی مزدور کام کر رہے تھے، اگر یہ معاہدہ نافذ ہو جاتا تو یہ اسرائیل پر اقتصادی دباؤ ڈالتا اور خوراک کی پیداوار کے شعبے کو طویل المدتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

بینکاک نے تہران میں ایرانی حکام اور حماس کے نمائندوں جن میں موسی ابو مرزوق شامل تھے، ان سے ملاقات کے لیے سفارت کار بھیجے۔ تاہم تھائی لینڈ نے کسی بھی ممکنہ معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی اور اغوا کیے گئے 31 میں سے 23 قیدی ابتدائی ہفتوں میں مختصر جنگ بندی کے ذریعے رہا کر دیے گئے۔

2024 کے وسط تک تھائی لینڈ نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بحال کر لیے۔ دو سالہ جنگ کے دوران مزید آٹھ تھائی قیدی رہا کیے گئے۔ تھائی لینڈ کے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں کہا گیا کہ ایران نے انہیں اقتصادی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

رِنثالاک جو آخری قیدیوں میں شامل تھے، گیزا کی سرحد کے قریب ایک فارم میں کام کر رہے تھے جب انہیں حماس نے اغوا کیا۔ ان کی آخری رسومات اسی ہفتے ان کے آبائی ملک میں کی گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں