صومالی وزیر دفاع

صومالیہ : امریکی صدر کا توہین آمیز رویہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صومالی قوم کی توہین پر مبنی رویے کے ہوتے ہوئے کوئی مطالبہ منظور نہیں کر سکتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مشرقی افریقہ کے ملک صومالیہ کے لوگوں کے لیے توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صومالی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم اپنی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ریلی کا انعقاد پینسلینیا میں کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ تیسری دنیا سے آنے والے امیگرنٹس کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے خلاف گاہے گاہے بیانات دیتے رہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا ہم ہمیشہ سے صومالیہ سے لوگوں کو اپنے ہاں آنے دے رہے ہیں۔ صومالیہ تباہی کی جگہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر صومالیہ کو کچرے کی جگہ قرار دیا اور جرائم کی آماجگاہ کہا۔

پچھلے ہفتے ٹرمپ نے ایک بار پھر گفتگو کرتے ہوئے صومالی لوگوں کو کچرا قرار دیا۔ جب صدر ٹرمپ اپنی کابینہ کے ارکان سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے صومالی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا وہ صرف ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لیے دوڑتے بھاگتے ہیں۔

صومالی وزیر فاع احمد معلم نے خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو اپنے ایک ٹیکسٹ میسج میں کہا صدر ٹرمپ کو دوسرے ملکوں کی توہین کرنے کی بجائے اپنے ملک کے عوام سے ووٹوں کے لیے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وزیر دفاع نے اس موقع پر امریکہ کی طرف سے القاعدہ کے خلاف فوجی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم صومالی عوام کی کردار کشی کو مسترد کر دیا۔

وزیر دفاع نے کہا دنیا جانتی ہے کہ صومالیہ کے لوگ دنیا بھر میں اپنی محنت اور جانفشانی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ صومالیہ کے لوگوں میں غیر معمولی لچک پائی جاتی ہے اور وہ ہر طرح کے حالات میں گزارا کر کیتے ہیں۔ انہیں مشکلات میں دھکیل دیا گیا ہے اور یہ کام ان کے دشمنوں نے کیا ہے جو صومالی عوام کے وجود کو ہی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ وہ ہمیں قتل کرتے ہیں، ہماری توہین کرتے ہیں اور ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں