مصری جانب رفح بارڈر کراسنگ پر انسانی امداد اور ایندھن لے جانے والے ٹرک (رائٹرز آرکائیو تصویر)

اسرائیل کے لیت ولعل سے رفح کراسنگ پر ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گیئں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی کمیشنر برائے مساوات حاجہ الحبیب نے انکشاف کیا کہ رفح بارڈر پر سیکڑوں ٹرک جو غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر جا رہے تھے، انھیں روک دیا گیا ہے کیونکہ بہت سے سامان کو "دوہرے مقصد" کا حامل قرار دیا گیا ہے، یہ اشارہ اسرائیل کی طرف تھا، جو بارڈر کی فلسطینی جانب کے امور کنٹرول کرتا ہے۔

الحبیب نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سلیپنگ بیگز اپنے رنگ اور وہیل چیئرز کو ان کے پہیوں کی وجہ سے روکا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امداد مکمل طور پر داخل کی جانی چاہیے، مرحلہ وار نہیں، کیونکہ موسم سرما عروج پر ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ انہیں غزہ داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور یورپی کمیشن کو وہاں اپنا دفتر دوبارہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں ملی۔

غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل سست روی کا شکار

یاد رہے کہ 10 اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت طویل مذاکرات کے بعد اسرائیل اور حماس نے مصر، قطر اور امریکہ کے ذریعے طے کیا تھا کہ روزانہ 600 ٹرک امدادی سامان غزہ پہنچائے جائیں گے، تاکہ 2023 سے تباہ شدہ فلسطینی علاقے میں بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

تاہم امدادی تنظیموں اور حماس کے مطابق یہ تعداد روزانہ کی بنیاد پر غزہ میں نہیں پہنچی۔ اکتوبر سے رفح بارڈر کے ذریعے امدادی ٹرک غزہ داخل ہونا شروع ہوئے، لیکن اسرائیلی سکیورٹی چیک اور تفتیش کی وجہ سے امداد کی ترسیل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں