ایران کی متعدد شہروں میں میزائل مشقیں، میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں:تہران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سرکاری میڈیا نے پیر کے روز ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے متعدد شہروں میں میزائل مشقیں کی ہیں جن میں تہران، اصفہان، مشہد، خرم آباد اور مہاباد شامل ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ ایران کی جانب سے تیار کیے جانے والے میزائلوں کا مقصد اپنے دفاع کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنا ہے۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا موضوع نہیں ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام ان میزائلوں کو خطرے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایرانی میزائل پروگرام ،ایرانی سرزمین کے دفاع کے لیے ترتیب دیا گیا ہے نہ کہ اسے مذاکرات کے لیے پیش کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے ایران کی دفاعی صلاحیتیں جو کسی بھی جارح کو روکنے کے لیے تیار کی گئی ہیں بحث کے دائرے میں نہیں آتیں۔

امریکہ نے ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام میں پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایران پر مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

امریکی نشریاتی ادارے ’این بی سی ‘کے مطابق امریکی حکام ایران کے میزائل پروگرام میں توسیع سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش میں مبتلا ہیں۔ نیٹ ورک نے ہفتے کے روز نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئے حملے کے لیے دستیاب آپشنز سے آگاہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

گذشتہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 دن تک جاری رہنے والی جنگ ہوئی تھی جس کا آغاز اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران میں فوجی اور جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں پر غیر معمولی حملوں سے ہوا تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق ان فضائی حملوں اور بمباری کے نتیجے میں ایران میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

اس حملے میں امریکہ نے بھی حصہ لیا اور ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے تسلیم کیا کہ اس کی سرزمین پر ایرانی میزائلوں کے پچاس سے زائد حملے ہوئے جن کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔

ایران جو سخت بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے مقامی سطح پر تیار کردہ ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ رکھتا ہے جس میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے شامل ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں