ںجی طیارہ
چینی اقدامات کی زد میں آئے ارب پتی ... ان کے نجی طیارے ملک چھوڑنے پر کیوں مجبور ہیں؟
وہ سفر کے لیے اکانومی کلاس کی نشستوں کا انتخاب کر رہے ہیں
ایوی ایشن کے سخت قوانین اور مشکل معاشی حالات چین کے بڑے کاروباری افراد کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ یا تو اپنے طیارے سنگاپور جیسی جگہوں پر منتقل کر دیں یا نجی طیاروں کے بجائے بزنس کلاس میں سفر کرنے لگیں۔ یاد رہے کہ ان تاجروں کو اندرونِ ملک سخت نگرانی اور چھان بین کا بھی خوف ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کے امیر ترین افراد ملک کے اندر Compliance کے سخت قوانین سے بچنے کے لیے خاموشی سے اپنے نجی طیارے بیرونِ ملک کھڑے کر رہے ہیں، جبکہ کمپنی ایگزیکٹوز نجی طیاروں کے بجائے بزنس کلاس میں سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔ "العربیہ بزنس" نے "SCMP" اخبار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں کاروباری طیاروں کا بیڑا مشکل معاشی حالات سے متاثر ہوا ہے۔
اخبار کے مطابق مال دار چینی شہریوں کی ملکیت والے طیارے اب زیادہ تر سنگاپور اور جاپان جیسے مراکز میں نظر آ رہے ہیں، جبکہ ارب پتی افراد اور ایگزیکٹوز کی بڑی تعداد بیرونِ ملک سفر کے لیے فرسٹ کلاس یا طیاروں کی "شیئرڈ سروس" (Time-sharing) کا رخ کر رہی ہے۔
ہانگ کانگ میں قائم ایوی ایشن سروسز کمپنی "ایشیئن اسکائی گروپ" کے مطابق چین کے اصل علاقے (Mainland China) میں کاروباری طیاروں کی تعداد گذشتہ سال کم ہو کر 249 رہ گئی ہے، جو کہ 2023 میں 270 تھی۔ اسی طرح کرایے پر دستیاب طیاروں کے بیڑے میں بھی کمی دیکھی گئی ہے اور رواں سال جون تک ان کی تعداد گذشتہ دو سالوں کے مقابلے میں کم ہو کر 46 رہ گئی ہے۔
اس کے برعکس ہانگ کانگ میں گذشتہ سال کاروباری طیاروں کی تعداد میں ایک طیارے کا اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 56 تک پہنچ گئی، جبکہ سنگاپور میں 9 طیاروں کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ "ایشیئن اسکائی گروپ" کے مطابق مجموعی طور پر ایشیا پیسیفک ریجن میں 14 طیاروں کا اضافہ ہوا جس سے اس خطے میں طیاروں کی کل تعداد 1156 ہو گئی ہے۔
ٹریول ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کی ماہر کمپنی "چائنا ٹریڈنگ ڈیسک" کے سی ای او سپرامنیا بھٹ کا کہنا ہے کہ چین سے باہر موجود طیاروں کی ایک بڑی تعداد چینی کمپنیوں کی ملکیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وقت طیاروں کی سنگاپور اور جاپان جیسے مقامات پر بتدریج منتقلی دیکھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ کچھ ایوی ایشن کمپنیاں نجی طیاروں کے استعمال پر عائد پابندیوں کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔