جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی)، یمن کے باغی 15 دسمبر 2025 کو ملک کے جنوبی صوبہ ابیَن میں پہنچ رہے ہیں۔ (رائٹرز)

عرب اتحاد کا یمن کی مُکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سعودیہ کے زیرِ قیادت عرب اتحاد نے ایک محدود فضائی حملے کا آغاز کیا جس میں اس کے مطابق مکلا بندرگاہ پر غیر ملکی فوجی اعانت کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے چند ہی دن قبل اتحاد نے جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کو مشرقی صوبہ حضرموت میں فوجی پیش قدمی کرنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔

اتحادی افواج کے ترجمان نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے آنے والے دو بحری جہاز اتحاد کی اجازت کے بغیر ہفتہ اور اتوار کو مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے، انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم غیر فعال کر دیے اور "ایس ٹی سی کی فوجی اعانت کے لیے"بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاریں۔

اتحاد نے کہا کہ مکلا بندرگاہ پر حملے سے کوئی ہلاکتیں یا اصل اہداف کے علاوہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، سعودی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی۔

اتحاد کے مطابق ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں دونوں جہازوں کے لنگرانداز ہونے کے بعد ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔

اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی سرکاری میڈیا نے کہا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حضرموت اور المَھرہ میں شہریوں کے تحفظ کی درخواست کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے اتحادی فضائیہ نے منگل کو علی الصبح ایک محدود فوجی کارروائی کی جس میں بحری جہازوں سے اتارے گئے ہتھیاروں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہتھیاروں کی منتقلی کی دستاویزبندی ہو گئی تو ہی یہ حملہ ہوا۔

المالکی نے ایک بیان میں کہا، "یہ بات کشیدگی میں کمی کے اقدامات اور پرامن حل کی کوششوں نیز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2015 کی قرارداد نمبر 2216 کی واضح خلاف ورزی ہے۔"

سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ایس ٹی سی پر زور دیا کہ وہ حضرموت اور المَہرہ گورنری سے دستبردار ہو جائیں اور اقتدار مقامی حکام کے حوالے کر دیں جس کے بعد یہ تازہ ترین پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہفتے کے آخر میں جاری کردہ بیان میں شہزادہ خالد نے مزید کہا کہ جنوب کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے اتفاق رائے اور یمن کے عوام کے درمیان اعتماد سازی سے حل کرنا ہو گا۔

اتحاد نے مزید کہا، "قانونی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کے بغیر کسی یمنی دھڑے کو کسی ملک کی طرف سے ملنے والی فوجی امداد کو ہم روکتے رہیں گے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں