غزہ کی تباہی کا منظر
اسرائیلی وزیرِ ثقافت: غزہ اور مغربی کنارہ ہمارے ہیں اور فلسطینی مہمان ہیں
ٹائمز آف اسرائیل میں مکی زوہر کا 'اشتعال انگیز' انٹرویو
اسرائیلی وزیر ثقافت اور حکمران لیکود پارٹی کے رکن مکی زوہر نے 'اشتعال انگیز' قرار دیئے گئے بیانات میں غزہ کے بارے میں کہا، یہ اسرائیل کا حصہ ہے اور اس سیکٹر میں فلسطینیوں کی حیثیت 'مہمان' کی ہے جنہیں اسرائیلی حکام نے وہاں عارضی طور پر رہنے کی اجازت دی ہے۔
جمعہ کو ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انہوں نے اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو ایک انٹرویو میں مزید کہا، "ہم انہیں صرف ایک مخصوص وقت کے لیے وہاں مہمان کے طور پر رہنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن غزہ ہمارا ہے۔"
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے مغربی کنارے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ "یہودیۃ و سامریۃ" کا تعلق بھی اسرائیل سے ہے۔ اور مزید کہا، "ہم اپنی زمین پر قابض نہیں ہیں۔"
اسرائیلی وزیر ثقافت مکی زوہر (تصویر اسرائیلی میڈیا سے)
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے زور دے رہا ہے جس میں تباہ شدہ فلسطینی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلاء اور تعمیرِ نو کے آغاز کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل مغربی کنارے میں مزید آبادیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگست میں اسرائیلی سول انتظامیہ نے یروشلم کے مشرق میں 12 مربع کلومیٹر کے رقبے پر ایک نئے "ای ون" منصوبے کی منظوری دی۔ فیصلے کے متن کے مطابق یہ منصوبہ معالے عدومیم جس کے بعض حصے العیزریہ قصبے کی زمینوں پر تعمیر کیے گئے تھے، کو یروشلم شہر سے ملا دے گا۔ یوں مشرقی یروشلم مؤثر طریقے سے فلسطینی علاقوں سے الگ ہو جائے گا۔ اس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ اور اس کا اپنے ملک سے الحاق کر لیا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں خواہ وہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ ہوں یا غیر مجاز۔ اسرائیلی سرکاری ذرائع کے مطابق مشرقی یروشلم میں 370,000 فلسطینی اور 230,000 سے زیادہ اسرائیلی آباد ہیں۔