مادورو فورٹ ٹیونا کمپلیس میں [رائیٹرز]

زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہ میں مقیم  وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو کیسے گرفتار کیا گیا؟

امریکی ڈیلٹا فورسز نے وینزویلا کے سب سے بڑے فوجی کمپلیکس سے مادورو اور اہلیہ کو حراست میں لینے کے لیے پیچیدہ آپریشن انجام دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغیر کسی پیشگی تفصیل کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اعلان کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بعد ازاں عسکری ذرائع نے بتایا کہ امریکی فوج کی ایلیٹ فورس سمجھی جانے والی ڈیلٹا فورسز کے کمانڈوز نے مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔

تاہم سوال یہ ہے کہ یہ گرفتاری کیسے عمل میں آئی اور کہاں سے کی گئی؟

Your browser doesn’t support HTML5 video

ابتدا میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ رات کے وقت وینزویلا کو نشانہ بنانے والے حملوں میں فورٹ ٹیونا فوجی کمپلیکس بھی شامل تھا جو ملک کا سب سے بڑا عسکری مرکز ہے۔

اسی بنا پر خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حملے خصوصی فورسز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیے گئے تاکہ وہ وہاں سے مادورو اور ان کی اہلیہ کو نکال سکیں۔

مادورو محفوظ صنوبر ہاوس میں[فوٹو وینزویلا اخبار ونگارڈیا]

خاص طور پر اس لیے کہ بڑے پیمانے پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ نکولس مادورو فورٹ ٹیونا کے اندر ایک زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہ میں مقیم تھے جسے "کاسا دی لوس پینوس" یا صنوبر کا گھر کہا جاتا ہے۔

متعدد ذرائع کے مطابق جن میں سابق وینزویلا اہلکار ایوان سیمونوفیس اور صحافی مایپورٹ بیٹیت شامل ہیں مادورو اپنی راتیں اسی محفوظ پناہ گاہ میں گزارتے تھے جو فورتی تیونا کے علاقے گواکایبورو میں واقع ہے۔

فورٹ ٹیونا سے اٹھتے آگ کے شعلے [اے ایف پی]

کہا جاتا ہے کہ یہ پناہ گاہ سرنگوں کے ذریعے فوجی کمپلیکس کے دیگر حصوں سے منسلک ہے اور یہاں سخت سکیورٹی تعینات رہتی ہے حتیٰ کہ بعض اطلاعات کے مطابق کیوبا کی سکیورٹی فورسز بھی اس کی حفاظت پر مامور تھیں جیسا کہ اس سے قبل اخبار وانگارڈیا نے رپورٹ کیا تھا۔

واضح رہے کہ صدارتی محل جسے میر افلورئیس پیلس کہا جاتا ہے اسی فوجی کمپلیکس کے قریب واقع ہے۔ تاہم مادورو درحقیقت فورتی تیونا میں موجود اسی انتہائی محفوظ زیرِ زمین پناہ گاہ میں قیام پذیر تھے۔

فورٹ ٹیونا کمپلیکس

دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسے رودریگیز نے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکی حملوں میں آج کے اوائل میں متعدد وینزویلا فوجی اور شہری ہلاک ہوئے۔

انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ انہیں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے ٹھکانے کا علم نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔

اسی دوران وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان خیل نے ٹیلی گرام پر اعلان کیا کہ ان کے ملک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے تاکہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنایا جا سکے اور امریکہ کی جانب سے کی گئی مجرمانہ جارحیت کا سامنا کیا جا سکے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یاد رہے کہ امریکہ کا یہ اچانک اقدام واشنگٹن اور کراکس کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی افواج نے بار ہا ایسے جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جن پر منشیات اسمگلنگ کا شبہ تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں اپنی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز دیگر جنگی جہازوں جدید لڑاکا طیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے بھی تعینات کیے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں