ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن
ٹرمپ گرین لینڈ کے بارے میں سنجیدہ ہیں، حملہ کیا گیا تو نیٹو اتحاد ختم ہوجائے گا: ڈنمارک
ٹرمپ گرین لینڈ کے بارے میں سنجیدہ ہیں، حملہ کیا گیا تو نیٹو اتحاد ختم ہوجائے گا: ڈنمارک
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی خواہش میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈنمارک اور اس جزیرے دونوں نے اس عزائم کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ فریڈرکسن نے ڈنمارک کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے میرا خیال ہے کہ امریکی صدر کو اس بات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے جب وہ کہتے ہیں کہ وہ گرین لینڈ چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے مملکتِ ڈنمارک کا موقف واضح کر دیا ہے اور گرین لینڈ نے بارہا کہا ہے کہ وہ امریکہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ فریڈرکسن نے خبردار کیا اور کہا کہ اگر امریکہ نے شمالی بحر اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے کسی دوسرے ملک پر حملہ کیا، تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نیٹو کے کسی دوسرے رکن ملک پر فوجی حملہ کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو نیٹو سمیت سب کچھ ختم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے قائم سکیورٹی نظام بھی ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں ایسا ہونے سے روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کروں گی۔
گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کی ٹرمپ کی کال کو پیر کے روز بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار جزیرے کے وزیراعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کافی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ الحاق کے واہموں کو ترک کردے۔
واضح رہے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے وینزویلا میں واشنگٹن کی فوجی مداخلت نے وسائل سے مالا مال قطبی جزیرے گرین لینڈ کے حوالے سے خدشات دوبارہ پیدا کردیے ہیں۔ گرین لینڈ کے بارے میں ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ آرکٹک ریجن میں اس کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر اسے ضم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے اتوار کی رات واشنگٹن جاتے ہوئے "ایئر فورس ون" طیارے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک اس کا خیال رکھنے کے قابل نہیں رہے گا۔
گرین لینڈ میں نایاب معدنیات موجود ہیں اور قطبی برف پگھلنے اور جہاز رانی کے نئے راستے سامنے آنے کے ساتھ یہ ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ نیز گرین لینڈ روس اور امریکہ کے درمیان میزائلوں کا مختصر ترین راستہ ہے جبکہ واشنگٹن کا وہاں ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم تقریباً دو ماہ میں گرین لینڈ کے بارے میں سوچیں گے، آئیے بیس دنوں میں گرین لینڈ کے بارے میں بات کریں۔
گرین لینڈ کے وزیراعظم فریڈرک نیلسن نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کافی ہے، مزید کوئی دباؤ نہیں۔ مزید کوئی اشارے نہیں۔ الحاق کے مزید کوئی واہمے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مکالمے کے لیے تیار ہیں۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن یہ درست ذرائع سے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔