President Donald Trump speaks to House Republican lawmakers during their annual policy retreat, Tuesday, Jan. 6, 2026, in Washington. (AP Photo/Evan Vucci)
یورپی یونین کا گرین لینڈ کے الحاق سے متعلق ٹرمپ کی دھمکی کے جواب پر غور
امریکہ بتدریج اتحادیوں کو چھوڑ رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہا ہے: میکرون
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالس نے جمعرات کو کہا ہے کہ یورپی یونین نے اس بات پر بحث کی ہے کہ اگر گرین لینڈ کے جزیرے پر قبضے کے بارے میں امریکی دھمکی حقیقت پر مبنی ہوئی تو کس نوعیت کا رد عمل دیا جائے۔
انہوں نے قاہرہ میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ گرین لینڈ کے بارے میں جو پیغامات ہم سن رہے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر اس قطبی شمالی جزیرے کی ضرورت ہے۔ گرین لینڈ، جس کی آبادی تقریباً 56 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، ایک خود مختار علاقہ ہے لیکن باضابطہ طور پر ڈنمارک کی مملکت کے ماتحت ہے اور ڈنمارک نیٹو اور یورپی یونین کا رکن ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا تھا کہ گرین لینڈ پر کوئی بھی امریکی حملہ نیٹو اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے سیکیورٹی نظام کے خاتمے کا باعث بنے گا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ٹرمپ ایک طویل عرصے سے اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ امریکہ کو اپنی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امریکہ بتدریج اپنے اتحادیوں کو چھوڑ رہا ہےاور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہا ہے۔ انہوں نے سفارتی تعلقات میں بڑھتی ہوئی نئی نوآبادیاتی جارحیت کے بارے میں بات کی۔
میکرون کے یہ ریمارکس ایلیزی پیلس میں فرانسیسی سفیروں کے سامنے اپنے سالانہ خطاب میں سامنے آئے۔ یورپی طاقتیں مغربی نصف کرہ میں امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف مربوط ردعمل کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔ نئی صورت حال واشنگٹن کی جانب سے معزول وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈنمارک کے زیر انتظام جزیرہ گرین لینڈ کو ضم کرنے کے ارادے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ امریکہ ایک قائم شدہ طاقت ہے لیکن وہ بتدریج اپنے بعض اتحادیوں کو چھوڑ رہی ہے اور ان بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہی ہے جن کی وہ حال ہی میں تشہیر کرتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کثیر جہتی اداروں کی کارکردگی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں بڑی طاقتیں دنیا کو آپس میں بانٹنے کی حقیقی خواہش رکھتی ہیں۔ ایمانوئل میکرون نے بڑی طاقتوں کی ’’ نئی استعماریت‘‘ اور دنیا میں حالیہ پیش رفت کے مقابلے میں "شکست خوردگی" کو مسترد کرنے کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نئی استعماریت اور نئی سامراجیت کو مسترد کرتے ہیں لیکن ہم محکومی اور شکست خوردگی کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم فرانس اور یورپ کے لیے جو کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں وہ صحیح سمت میں جا رہا ہے۔ ہم نے مزید سٹریٹجک آزادی حاصل کی اور امریکہ اور چین پر انحصار میں کمی کی۔ میکرون نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو منظم کرنے والے یورپی قوانین کو مضبوط کرے۔