الاقصر کی میراتھن کا ایک منظر۔
مصر: فرعونوں کے معبدوں کے درمیان عالمی میراتھن
مسلسل 33 ویں سال انعقاد، 47 ملکوں سے ایک ہزار دوڑنے والوں نے شرکت کی
بالائی مصر کے تاریخی شہر الاقصر میں مصر انٹرنیشنل میراتھن کے 33 ویں ایڈیشن کے مقابلوں کی میزبانی کی جا رہی ہے۔ اس سال میراتھن کی دوڑ میں 47 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد ایتھلیٹس مقابلہ کر رہے ہیں۔
میراتھن کے سربراہ جاسر ریاض نے جرمن پریس ایجنسی ’’ ڈی پی اے ‘‘ کو بتایا کہ میراتھن کی دوڑیں ملکہ ہتشیپسوت کے معبد کے سامنے سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ دوڑیں 5 کلومیٹر، 12 کلومیٹر، 21 کلومیٹر اور 42 کلومیٹر کی طوالت تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ تمام دوڑیں فرعونوں کے مندروں اور مقبروں کے بیچ منعقد ہوتی ہیں۔
دنیا کا امیر ترین آثارِ قدیمہ کا علاقہ
شرکاء ان معبدوں کے سامنے سے گزرتے ہیں جنہیں قدیم مصر کے بادشاہوں نے ہزاروں سال پہلے تعمیر کیا تھا۔ رامسیوم معبد جسے بادشاہ رمسیس دوم نے تعمیر کیا تھا، بادشاہ سیتی اول کا جنازہ گاہ کا معبد اور میمنون کے دو مشہور مجسمے بادشاہ امنحتب سوم کے مندر کے سامنے واقع ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے امیر ترین آثارِ قدیمہ کے قلب میں واقع دیگر معبد اور مقبرے بھی میراتھن کے راستے میں آتے ہیں۔ الاقصر میں مصر انٹرنیشنل میراتھن روڈ ریسنگ کی بین الاقوامی تنظیم کے ایجنڈے میں شامل ہےاور یہ ان واقعات میں سے ایک ہے جو مسلسل 33 ویں سال بغیر کسی تعطل کے مصری سیاحتی اور کھیلوں کے ایجنڈے پر درج ہیں۔
کھیلوں کی سیاحت
مصر انٹرنیشنل میراتھن کا 33 واں سیشن الاقصر گورنریٹ کے حکام کے اپنی سیاحتی مصنوعات کو متنوع بنانے اور مزید سیاحوں کو راغب کرنے کے منصوبوں کے فریم ورک کے تحت آتا ہے۔ سیاحتی اور آثارِ قدیمہ کی ترقی کے لیے مصری ایسوسی ایشن کے سربراہ ایمن ابوزید نے "ڈی پی اے" کو بتایا کہ الاقصر کھیلوں کی سیاحت کی حوصلہ افزائی کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ اسے ان سیاحتی طرزوں میں شامل کیا جا سکے جو شہر پہلے سے جانتا ہے۔
اس کام میں نمائشوں اور کانفرنسوں کی سیاحت، ایڈونچر سیاحت شامل ہے۔ یہ ایڈونچر سیاحت ہر صبح شہر کے مغرب میں آثارِ قدیمہ کے اوپر ہاٹ ایئر بیلون کی پروازوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس میں دریائی سیاحت بھی شامل ہے۔ عالمی سیاحتی تنظیم کی جانب سے الاقصر کو دنیا میں ثقافتی سیاحت کے دارالحکومتوں میں سے ایک کے طور پر رینکنگ بھی حاصل ہے۔