الأطفال و السوشيال ميديا مواقع التواصل
برطانیہ: اساتذہ کا سوشل میڈیا کے خلاف محاذ، سخت پابندی کی اپیل
آسٹریلیا میں گزشتہ ماہ 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ ہونے کے بعد برطانیہ کی اساتذہ کی ایک یونین نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرے،تاکہ اسکولوں میں توجہ بہتر بنائی جا سکے اور ذہنی صحت کو پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔
یونین نے حکومت سے اپیل کی کہ ایسا قانون بنایا جائے جو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بچوں کی اپنی پلیٹ فارمز تک رسائی روکنے کا پابند بنائے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی بی اے میڈیا کے مطابق یونین کا کہنا ہے کہ اس بات کے بڑھتے ہوئے شواہد موجود یں کہ سوشل میڈیا تک غیر منظم رسائی اسکولوں میں بدتر رویوں کا سبب بنتی ہے، نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصا ن پہنچاتی ہے اور انہیں پرتشدد اور جنسی طور پر واضح مواد کے سامنے لاتی ہے۔
یہ بچوں کے لیے موزوں نہیں
یونین کے سیکریٹری جنرل میٹ وراک نے کہا:اساتذہ روزانہ ایسے سوشل میڈیا ماحول کے نتائج سے نمٹتے ہیں ،جو اصل میں بچوں کے لیے بنایا ہی نہیں گیا اور نہ ہی ان کے لیے موزوں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں بارہا ثابت کر چکی ہیں کہ وہ اس وقت تک ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتیں جب تک انہیں مجبور نہ کیا جائے۔ اگر ہم واقعی بچوں کے تحفظ ان کی ذہنی صحت کے دفاع اور ہمارے اسکولوں میں رویوں کے بحران سے نمٹنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے فوری طور پر قانونی پابندی عائد کرنا ہوگی۔
بچوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ سال کے آخر میں اسکولوں کی نگرانی کرنے والے ادارے آف اسٹڈ (Ofsted) کے سربراہ نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ سوشل میڈیا بچوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو ''کھوکھلا ''کر رہا ہے اور غیر مہذب رویوں کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ مطالبہ یونین کے ایک سروے کے بعد بھی سامنے آیا، جو 2025 میں اس کے 5800 اراکین (اساتذہ) پر مشتمل تھا۔
سروے میں انکشاف ہوا کہ تقریباً ہر پانچ میں سے چار اساتذہ (81 فیصد) نے ایسے طلبہ کی تعداد میں اضافے کی اطلاع دی جو تشدد آمیز اور بدتمیز رویہ اختیار کر رہے ہیں۔اسی سروے میں تقریباً ہر پانچ میں سے تین اساتذہ (59 فیصد) نے کہا کہ ان کے خیال میں سوشل میڈیا طلبہ کے رویے میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ ہے۔