غزہ میں حماس کے ارکان
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں تاخیر کے باعث ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی افواج اور حماس فلسطینی علاقے میں تباہ شدہ غزہ میں لڑائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایک اسرائیلی عہدیدار اور ایک عرب سفارتکار کے مطابق اسرائیلی فوج مارچ میں غزہ میں نئی فوجی کارروائیوں کے لیے منصوبے تیار کر رہی ہے۔سفارتکار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے یہ بھی بتایا کہ یہ کارروائی امریکہ کی حمایت کے بغیر آگے نہیں بڑھے گی، جو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
اس مرحلے کے تحت حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے ہوں گے اور ایک بین الاقوامی فورس کے ذریعے استحکام قائم کیا جانا چاہیے، جیسا کہ ''ٹائمز آف اسرائیل'' نے رپورٹ کیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
پیلی لائن بدلنا
اس کے علاوہ انہوں نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی منصوبہ غزہ شہر پر مرکوز ہوگا اور اس کا مقصد پیلی لائن کو حرکت دینا ہے، جو غزہ پٹی کے اندر زمین کی نئی تقسیم کی نمائندگی کرتی ہے۔
نئی مالی معاونت؟
ساتھ ہی عرب اور اسرائیلی عہدیداروں نے تصدیق کی کہ حماس بھی لڑائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جیسا کہ وول اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے زیر زمین کچھ نقصان زدہ سرنگیں دوبارہ تعمیر کرنا شروع کر دی ہیں،اس کے ساتھ ہی انھوں نے نشاندہی کی کہ حماس نے اپنے جنگجو ارکان کی تنخواہیں دینے اور نئے جنگجوبھرتی کرنے کے لیے نئی مالی معاونت حاصل کر لی ہے۔
غزہ میں پیلی لکیر کے نام سے جانی جانے والی اسرائیلی فوج کے نشانات (سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر)
اس دوران اسرائیلی عہدیداروں نے امریکی اخبار کو بتایا کہ اسرائیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ امن منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے مزید وقت دینے کے لیے تیار ہے۔
تاہم ایک اور عہدیدار نے اشارہ کیا کہ نئی جنگ کے منصوبوں کا حتمی فیصلہ اسرائیلی سیاسی قیادت پر منحصر ہے۔یہ معلومات اسی دوران سامنے آئیں جب اسرائیلی فوج غزہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی اور کچھ علاقوں پر بمباری کر رہی ہے، باوجود اس کے کہ امریکی ثالثی کے تحت 10اکتوبر 2025سے وقفِ آگ جاری ہے۔اسی دوران توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی انتظامیہ آنے والے چند دنوں میں امن کونسل کے ارکان کا اعلان کرے گی، جو اس منصوبے کے تحت غزہ کی نگرانی کریں گے، جیسا کہ ٹرمپ کے منصوبے میں تجویز کیا گیا ہے۔